حدیث نمبر: 816
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جُلَسَاؤُهُ ، وَقَدْ رَأَيْتُهُ يَعْنِي وَابِصَةَ بْنَ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيَّ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَاهُ غَيْرَ مَرَّةٍ ، وَلَمْ يَقُلْ حَدَّثَنِي جُلَسَاؤُهُ . قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ لَا أَدَعَ شَيْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ ، وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَسْتَفْتُونَهُ ، فَجَعَلْتُ أَتَخَطَّاهُمْ فَقَالُوا : إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ، فَقَلْتُ : دَعُونِي فَأَدْنُو مِنْهُ ; فَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ ، فَقَالَ : " دَعُوا وَابِصَةَ ، ادْنُ يَا وَابِصَةُ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . قَالَ : فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " أُخْبِرُكَ أَمْ تَسْأَلَنِي ؟ " فَقُلْتُ : لَا ، بَلْ أَخْبِرْنِي ، فَقَالَ : " جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَجَعَلَ أَنَامِلَهُ الثَّلَاثَ يَنْكُثُ بِهِنَّ فِي صَدْرِي وَيَقُولُ : " يَا وَابِصَةُ ، اسْتَفْتِ نَفْسَكَ وَاسْتَفْتِ نَفْسَكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ ، وَتَرَدَّدَ فِي صَدْرِكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

ایوب بن عبداللہ بن مکرز کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : حالانکہ اُنہوں نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ان کے ساتھیوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے : حالانکہ میں نے اُنہیں دیکھا ہوا ہے ، اُن کی مراد سیدنا وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ عنہ تھے عفان نامی راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ حدیث بیان کی اور یہ نہیں کہا: کہ ان کے ساتھیوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے ۔ سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرا ارادہ یہ تھا کہ میں نیکی اور گناہ سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد کچھ مسلمان موجود تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسائل دریافت کر رہے تھے ، میں انہیں پھلانگ کر آگے آنے لگا ، تو لوگوں نے کہا: اے وابصہ ! اللہ کے رسول سے پیچھے رہو ، میں نے کہا: تم لوگ مجھے اُن کے قریب جانے دو ! کیونکہ وہ لوگوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں ، اس حوالے سے کہ میں اُن کے قریب جاؤں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وابصہ کو آنے دو ! اے وابصہ ! تم قریب آ جاؤ ! یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ، یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، راوی بیان کرتے ہیں : میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گیا ، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( تم نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں دریافت کرنا ہے ، اُس کے بارے میں ) میں تمہیں بتا دوں ، یا تم مجھ سے سوال کرو گے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ آپ مجھے بتا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تین ( انگلیوں کی ) پوروں کو میرے سینے پر مارا اور ارشاد فرمایا : اے وابصہ ! اپنے آپ سے پوچھو ! اپنے آپ سے پوچھو ! یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور فرمایا : ” نیکی وہ ہے جس سے ( آدمی کا ) من مطمئن ہو ، اور گناہ وہ ہے ، جو تمہارے من میں کھٹکے اور تمہارے سینے میں تردد کا باعث بنے ، خواہ لوگ تمہیں جو بھی حکم بیان کریں ، وہ تمہیں جو بھی کہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عبداللہ بن مکرز ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی روایت کی متابعت نہیں کی گئی ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 816
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام أحمد فى مسنده 228/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 148/22 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 1583 ، 1584 أورده المؤلف فى زوائد المسند 248 أورده المؤلف فى المقصد العلى 102»