مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْبِرِّ وَالْإِثْمِ . باب: نیکی اور گناہ کا بیان
عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْأَلُهُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ ، فَقَالَ : " جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ ؟ " فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ غَيْرِهِ ، فَقَالَ : " الْبِرُّ مَا انْشَرَحَ لَهُ صَدْرُكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ عَنْهُ النَّاسُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، وَقَالَ فِي الْبَزَّارِ : الْأَسَدِيُّ عَنْ وَابِصَةَ ، وَعَنْهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے کے لئے آئے ہو ؟ تو سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں آپ کے پاس اس کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے نہیں آیا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نیکی وہ ہے جس کے لیے تمہیں شرح صدر حاصل ہو ، خواہ لوگ اُس کے بارے میں تمہیں جو بھی حکم بیان کرتے ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبداللہ سلمی ہے ، امام بزار نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اسدی نے سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے اور اس سے معاویہ بن صالح نے روایت نقل کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔