حدیث نمبر: 796
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا ، وَنَهَى عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا ، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا ، وَغَفَلَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ هَكَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ ، وَكَأَنَّ بَعْضَ الرُّوَاةِ ظَنَّ أَنَّ هَذَا مَعْنًى وَسَكَتَ ، فَرَوَاهَا كَذَلِكَ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ فرض مقرر کیے ہیں ، تو تم انہیں ضائع نہ کرو ، اس نے کچھ چیزوں سے منع کیا ہے ، تو تم اس کی خلاف ورزی نہ کرو ، اس نے کچھ حدود متعین کی ہیں ، تو تم ان سے تجاوز نہ کرو ، اور اس نے بھولے بغیر کچھ چیزوں کے حوالے سے غفلت ( ظاہر ) کی ہے ، تو تم اُن کے بارے میں بحث ( یا تفتیش ) نہ کرو !“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس روایت میں یہ اسی طرح ( یعنی غفلت کے اظہار کے الفاظ کا ذکر ) ہے ، یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی راوی نے یہ گمان کیا کہ ” اُس نے خاموشی اختیار کی“ کا مطلب یہی بنتا ہے ، تو اس نے یہ لفظ اسی طرح ( یعنی روایت بالمعنی کے طور پر ) روایت کر دیا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 796
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 222 ، 221/22»