مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ ثَانٍ مِنْهُ فِي اتِّبَاعِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَمَعْرِفَةِ الْحَلَالِ مِنَ الْحَرَامِ . باب: اس سے متعلق دوسرا باب جو کتاب و سنت کی پیروی کرنے اور حرام کے مقابلے میں حلال کی معرفت حاصل کرنے کے بارے میں ہے
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا ، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا ، وَسَكَتَ عَنْ كَثِيرٍ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تُكَلَّفُوهَا ، رَحْمَةً لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَنُسِبَ إِلَى الْوَضْعِ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض قرار دی ہیں ، تو تم انہیں ضائع نہ کرو ، اس نے کچھ حدود مقرر کی ہیں ، تم ان سے تجاوز نہ کرو اور اس نے کئی چیزوں کے حوالے سے ، بھولے بغیر خاموشی اختیار کی ہے ، تو تم اس کے پابند نہیں ہو ، اس نے تمہارے لیے رحمت کے طور پر ایسا کیا ہے ، تو تم اسے قبول کرو !“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، وہ متروک ہے اور اس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔