مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ سَنَّ خَيْرًا أَوْ غَيْرَهُ أَوْ دَعَا إِلَى هُدًى . باب: اس شخص کا بیان’ جو بھلائی کے کسی کام یا اُس کے علاوہ (یعنی برائی) کا طریقہ آغاز کرے یا وہ ہدایت کی طرف دعوت دے
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ - وَكَانَ شَيْخًا قَدِيمًا - قَالَ : كُنَّا مَعَ طَاوُسٍ فِي الْمَقَامِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : قَوْمٌ أَخْذَهَمُ ابْنُ هِشَامٍ فِي سَبَبٍ فَطَوَّقَهُمْ ، فَسَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ لَمْ يَكُنْ يَمُوتُ حَتَّى يُصِيبَهُ ذَلِكَ " قَالَ بِشْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : فَأَنَا رَأَيْتُ ابْنَ هِشَامٍ حِينَ عُزِلَ ، فَأَتَى عُمَّالُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَطَوَّقُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ ابْنُ حِبَّانَ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤بشر بن عبیداللہ ، جو ایک پرانے بزرگ ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ طاؤس کے ہمراہ ایک جگہ پر تھے ، انہوں نے دریافت کیا : یہ کیا معاملہ ہے ؟ ایک شخص نے بتایا : یہ سب وہ لوگ ہیں ، جنہیں ابن ہشام نے کسی جرم میں پکڑا ہے ، اور ان کے گلے میں طوق ڈال دیے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو میں نے طاؤس کو سنا ، اُنہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اس امت میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے گا ، وہ اُس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک اُسے وہ چیز لاحق نہیں ہو گی “ بشر بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابن ہشام کو دیکھا ، جب اُسے معزول کیا گیا ، تو ولید بن عبدالملک کے اہلکار آئے اور اُنہوں نے ابن ہشام کے گلے میں طوق ڈال دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبیداللہ ہے ، ابن حبان کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔