کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان’ جو بھلائی کے کسی کام یا اُس کے علاوہ (یعنی برائی) کا طریقہ آغاز کرے یا وہ ہدایت کی طرف دعوت دے
حدیث نمبر: 767
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ رَجُلٍ يُنْعِشُ لِسَانَهُ حَقًّا يُعْمَلُ بِهِ بَعْدَهُ إِلَّا جَرَى لَهُ أَجْرَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ وَفَّاهُ اللَّهُ ثَوَابَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ أَحْمَدُ : لَا يُعْرَفُ . قُلْتُ : وَشَيْخُ ابْنُ مَوْهَبٍ مَالِكُ بْنُ حَالِكِ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اپنی زبان کو حق کے لیے استعمال کرتا ہے ، تاکہ اُس کے بعد اس حق پر عمل کیا جائے ، تو اُس شخص کا اجر قیامت کے دن تک جاری رہتا ہے ، پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُسے پورا ثواب عطا کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عبداللہ بن موہب ہے ، امام أحمد فرماتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ( یا اس کی شناخت نہیں ہو سکی ) ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن موہب کے استاد مالک بن مالک بن حارثہ انصاری ہیں ، میں نے کسی کو اُن کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 767
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 266/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 181»
حدیث نمبر: 768
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَرْبَعَةٌ تَجْرِي عَلَيْهِمْ أُجُورُهُمْ بَعْدَ الْمَوْتِ : رَجُلٌ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَأَجْرُهُ يَجْرِي عَلَيْهِ مَا عَمِلَ بِهِ ، وَرَجُلٌ أَجْرَى صَدَقَةً فَأَجْرُهَا لَهُ مَا جَرَتْ ، وَرَجُلٌ تَرَكَ وَلَدًا صَالِحًا يَدْعُو لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” چار لوگ ہیں ، جن کے اجور موت کے بعد بھی جاری رہتے ہیں ، وہ شخص جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے انتقال کر جائے ، وہ شخص جو کسی علم کی تعلیم دے ، تو جب تک اس علم پر عمل کیا جاتا رہتا ہے ، اس شخص کا عمل جاری رہتا ہے ، وہ شخص جو صدقہ جاریہ کرے کہ جب تک وہ صدقہ چلتا رہتا ہے ، اُس کا اجر جاری رہتا ہے اور وہ شخص جو نیک اولاد چھوڑ کر جائے جو اس کے لئے دعا کرے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 768
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 269/5 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه 7831 اورده المؤلف فى زوائد المسند 182»
حدیث نمبر: 769
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَبْعَةٌ يَجْرِي لِلْعَبْدِ أَجْرُهُنَّ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ وَهُوَ فِي قَبْرِهِ : مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا ، أَوْ كَرَى نَهْرًا ، أَوْ حَفَرَ بِئْرًا ، أَوْ غَرَسَ نَخْلًا ، أَوْ بَنَى مَسْجِدًا ، أَوْ وَرَّثَ مُصْحَفًا ، أَوْ تَرَكَ وَلَدًا يَسْتَغْفِرُ لَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سات لوگ ہیں ، جن کا اجر اُن کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے ، جبکہ وہ قبر میں ہوتے ہیں ، وہ شخص جو کسی علم کی تعلیم دے ، یا نہر کھدوائے ، یا کنواں کھدوائے ، یا درخت لگائے ، یا مسجد بنائے ، یا قرآن مجید وراثت میں نقل کرے ، یا ایسی اولاد چھوڑ کر جائے جو اُس کے مرنے کے بعد ، اُس کے لئے دعائے مغفرت کرتی رہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 769
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 149»
حدیث نمبر: 770
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا أَعْطَاهُ ، فَأَعْطَاهُ الْقَوْمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ وَمِنْ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ سَنَّ شَرًّا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ وَمِنْ أَوْزَارِ مَنْ تَبِعَهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ حُذَيْفَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے کچھ مانگا ، تو لوگوں نے کچھ نہیں دیا ، پھر ایک شخص نے اُسے کچھ دیا ، تو ( اُس کی دیکھا دیکھی ) دوسرے لوگوں نے بھی دے دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بھلائی کے طریقے کا آغاز کرتا ہے اور پھر اس طریقے کی پیروی کی جاتی ہے ، تو اُس شخص کو اُس کا اپنا اجر بھی ملتا ہے اور جس نے اُس کی پیروی کی تھی ، اُن کا اجر بھی ملتا ہے ، اور اُن لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ، اور جو شخص کسی برے طریقے کا آغاز کرتا ہے ، جس کی پیروی کی جاتی ہے ، تو اُس شخص کو اس کا اپنا گناہ بھی ملتا ہے اور اُن لوگوں کا گناہ بھی ملتا ہے ، جو اُس کی پیروی کرتے ہیں ، اور اُن لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعبیدہ بن حذیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اُسے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 770
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 2/683 ح 10759 اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 2656 اورده المؤلف فى زوائد المسند 180 ، اورده المؤلف فى كشف الاستار 150»
حدیث نمبر: 771
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفْدُ عَبْدِ قِيسٍ مُجْتَابِي النِّمَارِ ، عَلَيْهِمْ أَثَرُ الضُّرِّ ، فَسَاءَهُ مَا رَأَى مِنْ هَيْأَتِهِمْ ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ ثُمَّ خَرَجَ ، فَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ وَحَرَّضَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : " لِيَتَصَدَّقِ الرَّجُلُ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ ، وَلِيَتَصَدَّقْ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ " . قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ بِصُرَّةٍ فَوَضَعَهَا ، ثُمَّ تَتَابِعَ النَّاسُ حَتَّى اجْتَمَعَ شَيْءٌ مِنْ ثِيَابٍ وَطَعَامٍ . قَالَ : فَتَهَلَّلَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَارَ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان لوگوں نے چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا اور تنگی کے آثار ان پر نمایاں تھے ، ان کی صورتحال دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افسوس ہوا ، آپ گھر تشریف لے گئے ، پھر آپ تشریف لائے اور صدقہ کرنے کا حکم دیا ، اور اس حوالے سے ترغیب دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی اپنی گندم کا ایک صاع صدقہ کر دے ، کوئی کھجور کا ایک صاع صدقہ کر دے ، راوی بیان کرتے ہیں : ( سب سے پہلے ) ایک شخص تھیلی لے کر آیا اور وہ رکھ دی ، پھر لوگ یکے بعد دیگرے چیزیں لانے لگے ، یہاں تک کہ کپڑوں اور اناج کی بہت سی چیزیں جمع ہو گئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک جگمگانے لگا ، یوں جیسے وہ سونے کا بنا ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی اچھے کام کا آغاز کرتا ہے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا ہے ، تو اُس شخص کو اس کام کا اجر ملتا ہے ، اور ان لوگوں کی مانند بھی اجر ملتا ہے جنہوں نے اس پر عمل کیا ہو اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ، اور جو شخص کسی برے کام کا آغاز کرتا ہے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا ہے تو اس کا گناہ اس شخص کو ہو گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی ہو گا ، جو اس پر عمل کریں گے ، حالانکہ ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی غسان بن ربیع ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، دارقطنی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 771
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 4386»
حدیث نمبر: 772
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا مَا عُمِلَ بِهِ فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ مَمَاتِهِ حَتَّى تُتْرَكَ ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَلَيْهِ إِثْمُهَا حَتَّى تُتْرَكَ ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُ الْمُرَابِطِ حَتَّى يُبْعَثَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی اچھے طریقے کا آغاز کرتا ہے ، اسے اس کا اجر ملتا ہے ، جب تک اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس پر عمل کیا جاتا رہے ، یہاں تک کہ اُسے ترک کر دیا جائے ، اور جو شخص کسی برے طریقے کا آغاز کرتا ہے ، تو جب تک اسے ترک نہیں کیا جاتا ، اس کا گناہ اس شخص کے ذمہ لازم ہوتا ہے جو شخص اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے انتقال کر جاتا ہے ، اس کے لیے پہریدار کا عمل جاری رہتا ہے ، یہاں تک کہ قیامت کے دن اُسے دوبارہ زندہ کیا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 772
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 773
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى فَاتُّبِعَ عَلَيْهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص ہدایت کی طرف دعوت دیتا ہے اور پھر اس ( ہدایت ) کی پیروی کی جاتی ہے ، تو ان لوگوں کے اجر کی مانند اُسے بھی اجر ملتا ہے ، حالانکہ اُن لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ، اور جو شخص کسی گمراہی کی طرف دعوت دیتا ہے ، تو اُن لوگوں کے گناہ کی مانند ، اسے بھی گناہ ہوتا ہے ، حالانکہ اُن لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 773
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 774
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : إِنَّ ابْنَ آدَمَ الَّذِي قَتَلَ أَخَاهُ لَيُقَاسِمُ أَهْلَ النَّارِ نِصْفَ عَذَابِهِمْ قِسْمَةً صِحَاحًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَ لِشَيْخِ الْبَزَّارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَطَّارِ ، يَرْوِي عَنْ عَفَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا آدم علیہ السلام کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا ، تاکہ وہ اہل جہنم کے عذاب کے نصف حصے کا حصہ دار بن جائے ، جو برابر کا حصہ ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا ، جس نے امام بزار کے استاد عبداللہ بن اسحاق عطار کے حالات نقل کیے ہوں ، اُن صاحب نے عفان نامی راوی سے روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 774
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 190»
حدیث نمبر: 775
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ - وَكَانَ شَيْخًا قَدِيمًا - قَالَ : كُنَّا مَعَ طَاوُسٍ فِي الْمَقَامِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : قَوْمٌ أَخْذَهَمُ ابْنُ هِشَامٍ فِي سَبَبٍ فَطَوَّقَهُمْ ، فَسَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ لَمْ يَكُنْ يَمُوتُ حَتَّى يُصِيبَهُ ذَلِكَ " قَالَ بِشْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : فَأَنَا رَأَيْتُ ابْنَ هِشَامٍ حِينَ عُزِلَ ، فَأَتَى عُمَّالُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَطَوَّقُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ ابْنُ حِبَّانَ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
بشر بن عبیداللہ ، جو ایک پرانے بزرگ ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ طاؤس کے ہمراہ ایک جگہ پر تھے ، انہوں نے دریافت کیا : یہ کیا معاملہ ہے ؟ ایک شخص نے بتایا : یہ سب وہ لوگ ہیں ، جنہیں ابن ہشام نے کسی جرم میں پکڑا ہے ، اور ان کے گلے میں طوق ڈال دیے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو میں نے طاؤس کو سنا ، اُنہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اس امت میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے گا ، وہ اُس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک اُسے وہ چیز لاحق نہیں ہو گی “ بشر بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابن ہشام کو دیکھا ، جب اُسے معزول کیا گیا ، تو ولید بن عبدالملک کے اہلکار آئے اور اُنہوں نے ابن ہشام کے گلے میں طوق ڈال دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبیداللہ ہے ، ابن حبان کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 775
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 10991 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3547»