مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ سَنَّ خَيْرًا أَوْ غَيْرَهُ أَوْ دَعَا إِلَى هُدًى . باب: اس شخص کا بیان’ جو بھلائی کے کسی کام یا اُس کے علاوہ (یعنی برائی) کا طریقہ آغاز کرے یا وہ ہدایت کی طرف دعوت دے
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفْدُ عَبْدِ قِيسٍ مُجْتَابِي النِّمَارِ ، عَلَيْهِمْ أَثَرُ الضُّرِّ ، فَسَاءَهُ مَا رَأَى مِنْ هَيْأَتِهِمْ ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ ثُمَّ خَرَجَ ، فَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ وَحَرَّضَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : " لِيَتَصَدَّقِ الرَّجُلُ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ ، وَلِيَتَصَدَّقْ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ " . قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ بِصُرَّةٍ فَوَضَعَهَا ، ثُمَّ تَتَابِعَ النَّاسُ حَتَّى اجْتَمَعَ شَيْءٌ مِنْ ثِيَابٍ وَطَعَامٍ . قَالَ : فَتَهَلَّلَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَارَ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان لوگوں نے چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا اور تنگی کے آثار ان پر نمایاں تھے ، ان کی صورتحال دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افسوس ہوا ، آپ گھر تشریف لے گئے ، پھر آپ تشریف لائے اور صدقہ کرنے کا حکم دیا ، اور اس حوالے سے ترغیب دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی اپنی گندم کا ایک صاع صدقہ کر دے ، کوئی کھجور کا ایک صاع صدقہ کر دے ، راوی بیان کرتے ہیں : ( سب سے پہلے ) ایک شخص تھیلی لے کر آیا اور وہ رکھ دی ، پھر لوگ یکے بعد دیگرے چیزیں لانے لگے ، یہاں تک کہ کپڑوں اور اناج کی بہت سی چیزیں جمع ہو گئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک جگمگانے لگا ، یوں جیسے وہ سونے کا بنا ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی اچھے کام کا آغاز کرتا ہے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا ہے ، تو اُس شخص کو اس کام کا اجر ملتا ہے ، اور ان لوگوں کی مانند بھی اجر ملتا ہے جنہوں نے اس پر عمل کیا ہو اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ، اور جو شخص کسی برے کام کا آغاز کرتا ہے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا ہے تو اس کا گناہ اس شخص کو ہو گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی ہو گا ، جو اس پر عمل کریں گے ، حالانکہ ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی غسان بن ربیع ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، دارقطنی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔