مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ سَنَّ خَيْرًا أَوْ غَيْرَهُ أَوْ دَعَا إِلَى هُدًى . باب: اس شخص کا بیان’ جو بھلائی کے کسی کام یا اُس کے علاوہ (یعنی برائی) کا طریقہ آغاز کرے یا وہ ہدایت کی طرف دعوت دے
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا أَعْطَاهُ ، فَأَعْطَاهُ الْقَوْمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ وَمِنْ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ سَنَّ شَرًّا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ وَمِنْ أَوْزَارِ مَنْ تَبِعَهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ حُذَيْفَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے کچھ مانگا ، تو لوگوں نے کچھ نہیں دیا ، پھر ایک شخص نے اُسے کچھ دیا ، تو ( اُس کی دیکھا دیکھی ) دوسرے لوگوں نے بھی دے دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بھلائی کے طریقے کا آغاز کرتا ہے اور پھر اس طریقے کی پیروی کی جاتی ہے ، تو اُس شخص کو اُس کا اپنا اجر بھی ملتا ہے اور جس نے اُس کی پیروی کی تھی ، اُن کا اجر بھی ملتا ہے ، اور اُن لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ، اور جو شخص کسی برے طریقے کا آغاز کرتا ہے ، جس کی پیروی کی جاتی ہے ، تو اُس شخص کو اس کا اپنا گناہ بھی ملتا ہے اور اُن لوگوں کا گناہ بھی ملتا ہے ، جو اُس کی پیروی کرتے ہیں ، اور اُن لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعبیدہ بن حذیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اُسے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ۔