حدیث نمبر: 772
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا مَا عُمِلَ بِهِ فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ مَمَاتِهِ حَتَّى تُتْرَكَ ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَلَيْهِ إِثْمُهَا حَتَّى تُتْرَكَ ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُ الْمُرَابِطِ حَتَّى يُبْعَثَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی اچھے طریقے کا آغاز کرتا ہے ، اسے اس کا اجر ملتا ہے ، جب تک اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس پر عمل کیا جاتا رہے ، یہاں تک کہ اُسے ترک کر دیا جائے ، اور جو شخص کسی برے طریقے کا آغاز کرتا ہے ، تو جب تک اسے ترک نہیں کیا جاتا ، اس کا گناہ اس شخص کے ذمہ لازم ہوتا ہے جو شخص اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے انتقال کر جاتا ہے ، اس کے لیے پہریدار کا عمل جاری رہتا ہے ، یہاں تک کہ قیامت کے دن اُسے دوبارہ زندہ کیا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 772
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن