مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ غَيْرَةِ النِّسَاءِ . باب: خواتین کے مزاج کی تیزی
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : وَكَانَ مَتَاعِي فِيهِ خِفٌّ ، وَكَانَ عَلَى جَمَلٍ نَاجٍ ، وَكَانَ مَتَاعُ صَفِيَّةَ فِيهِ ثِقَلٌ ، وَكَانَ عَلَى جَمَلٍ ثَفَالٍ بَطِيءٍ يُبْطِئُ بِالرَّكْبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوِّلُوا مَتَاعَ عَائِشَةَ عَلَى جَمَلِ صَفِيَّةَ وَحَوِّلُوا مَتَاعَ صَفِيَّةَ عَلَى جَمَلِ عَائِشَةَ حَتَّى يَمْضِيَ الرَّكْبُ " قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ : يَا لِعِبَادِ اللَّهِ ، غَلَبَتْنَا هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ مَتَاعَكِ كَانَ فِيهِ خِفٌّ ، وَكَانَ مَتَاعُ صَفِيَّةَ فِيهِ ثِقَلٌ فَأَبْطَأَ بِالرَّكْبِ فَحَوَّلْنَا مَتَاعَهَا عَلَى بَعِيرِكِ وَحَوَّلْنَا مَتَاعَكِ عَلَى بَعِيرِهَا " قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : فَتَبَسَّمَ فَقَالَ : " أَوَ فِي شَكٍّ أَنْتِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ فَهَلَّا عَدَلْتَ ؟ وَسَمِعَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَكَانَ فِيهِ غَرْبٌ - أَيْ حِدَّةٌ - فَأَقْبَلَ عَلَيَّ وَلَطَمَ وَجْهِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلًا يَا أَبَا بَكْرٍ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالَتْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْغَيْرَى لَا تُبْصِرُ أَسْفَلَ الْوَادِي مِنْ أَعْلَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةُ ابْنِ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو الشَّيْخِ بْنُ حِبَّانَ فِي كِتَابِ الْأَمْثَالِ وَلَيْسَ فِيهِ غَيْرُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ ، وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرا سامان کم تھا ، اور وہ ایک تگڑے اونٹ پر تھا ، اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا سامان زیادہ تھا ، اور وہ ایک سست اور کمزور اونٹ پر تھا جس کی وجہ سے دیگر سواروں کو چلنے میں مشکل ہو رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عائشہ کا سامان منتقل کر کے صفیہ کے اونٹ پر رکھ دو اور صفیہ کا سامان منتقل کر کے عائشہ کے اونٹ پر رکھ دو تاکہ سوار چلتے رہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب میں نے یہ بات دیکھی ، تو میں نے کہا: اے اللہ کے بندو ! یہ یہودی عورت ہمارے مقابلے میں اللہ کے رسول پر غالب آ گئی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام عبداللہ ! تمہارا سامان ہلکا ہے ، اور صفیہ کا سامان وزنی ہے جس کی وجہ سے سواروں کو چلنے میں دشواری پیش آ رہی ہے ، تو ہم نے اس کا سامان تمہارے اونٹ پر منتقل کر دیا ہے ، اور تمہارا سامان اس کے اونٹ پر منتقل کر دیا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا: کیا آپ کا یہ کہنا نہیں ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے آپ نے ارشاد فرمایا : اے ام عبداللہ ! کیا تمہیں اس بارے میں شک ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا آپ یہ نہیں کہتے ہیں : کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو آپ عدل سے کام کیوں نہیں لیتے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے سنا ان کے مزاج میں تیزی تھی وہ میری طرف آئے ، اور انہوں نے میرے چہرے پر طمنچہ مارا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوبکر ! ٹھہر جاؤ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے جو کہا: ، کیا آپ نے وہ سنا نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مزاج کی تیزی کے وقت وادی کے اوپری اور نشیبی حصے کا فرق دکھائی نہیں دیتا ( یعنی غصے کے عالم میں کچھ سمجھ نہیں آتا ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایک راوی سلمہ بن فضل ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، جن میں یحیی بن معین ابن حبان اور ابوحاتم شامل ہیں جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت ابوشیخ بن حبان نے کتاب الامثال میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں اسامہ بن زید لیثی کے علاوہ اور کوئی راوی نہیں ہے ، اور وہ صحیح کے رجال میں سے ہیں اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔