مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ غَيْرَةِ النِّسَاءِ . باب: خواتین کے مزاج کی تیزی
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَتْ عِنْدَنَا أُمُّ سَلَمَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ جُنْحِ اللَّيْلِ قَالَتْ : فَذَكَرْتُ شَيْئًا صَنَعَهُ بِيَدِهِ وَجَعَلَ لَا يَفْطَنُ لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : وَجَعَلَتْ تُومِئُ إِلَيْهِ حَتَّى فَطِنَ قَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ : أَهَكَذَا الْآنَ أَمَا كَانَ وَاحِدَةٌ مِنَّا عِنْدَكِ إِلَّا فِي خَلَائِهِ كَمَا أَرَى وَسَبَّتْ عَائِشَةَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَاهَا فَتَأْبَى فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبِّيهَا " فَسَبَّتْهَا حَتَّى غَلَبَتْهَا فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ فَقَالَتْ : إِنَّ عَائِشَةَ سَبَّتْهَا وَقَالَتْ لَكُمْ وَقَالَتْ لَكُمْ فَقَالَ عَلِيٌّ [ لِفَاطِمَةَ ] : اذْهَبِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ : إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَنَا وَقَالَتْ لَنَا ، فَأَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ الَّذِي قَالَ لَهَا فَقَالَ : أَمَا كَفَاكِ إِلَّا أَنْ قَالَتْ لَنَا عَائِشَةُ وَقَالَتْ لَنَا حَتَّى أَتَتْكِ فَاطِمَةُ فَقَالَتْ لَهَا : إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَرَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ فَذَكَرَتْ لَهُ الَّذِي قَالَ لَهَا فَقَالَ : أَمَا كَفَاكَ إِلَّا أَنْ قَالَتْ لَنَا عَائِشَةُ وَقَالَتْ لَنَا حَتَّى أَتَتْكَ فَاطِمَةُ فَقَالَتْ لَهَا : إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ أُمِّ سَلَمَةَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ ، وَهُوَ أَيْضًا أَخْصَرُ مِنْ هَذَا - وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہمارے پاس موجود تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آغاز کے وقت تشریف لائے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے ایک چیز یاد آئی جو آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے بنائی تھی سیدہ ام سلمہ ” کو اس کا پتہ نہیں چلنا چاہیے تھا ، میں نے اشارے کنائے میں آپ کی توجہ اس طرف مبذول کروانا چاہی ، تو آپ کو ( میرے مدعا کی ) سمجھ آ گئی ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا اس وقت اس طرح ہو رہا ہے ؟ کیا ہم میں سے کوئی ایک آپ کے پاس صرف اس وقت ہو سکتی ہے ، جب آپ تنہا ہوں ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو برا کہنا شروع کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں منع کرنے لگے لیکن وہ نہیں مانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی اسے جواب دو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں برا کہنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ ان پر غالب آ گئیں ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلی گئیں اور یہ کہا: عائشہ نے انہیں برا کہا: ہے ، اور تم لوگوں کے بارے میں یہ کہا: ہے ، اور وہ کہا: ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ کی خدمت میں عرض کرو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے بارے میں یہ کہا: ہے ، اور یہ کہا: ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کے سامنے وہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! اوہ تمہارے باپ کی محبوب شخصیت ہے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے وہ بات ذکر کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ارشاد فرمائی تھی ، تو انہوں نے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے بارے میں یہ کہا: اور وہ کہا: ، لیکن جب فاطمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں تو آپ نے یہ فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! یہ تمہارے باپ کی محبوب شخصیت ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے اس میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی جگہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا ہے ، اور ان کی روایت کی اس روایت سے زیادہ مختصر ہے ، اور باقی اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔