کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خواتین کے مزاج کی تیزی
حدیث نمبر: 7691
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّ بِنِسَائِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ نَزَلَ رَجُلٌ فَسَاقَ بِهِنَّ فَأَسْرَعَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَاكَ سَوْقُكَ بِالْقَوَارِيرِ " يَعْنِي : النِّسَاءَ فَبَيْنَا هُمْ يَسِيرُونَ بَرَكَ بِصَفِيَّةَ ابْنَةِ حُيَيٍّ جَمَلُهَا ، وَكَانَتْ مِنْ أَحَسَنِهِنَّ ظَهْرًا فَبَكَتْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ دُمُوعَهَا بِيَدِهِ وَجَعَلَتْ تَزْدَادُ بُكَاءً ، وَهُوَ يَنْهَاهَا فَلَمَّا أَكْثَرَتْ زَبَرَهَا ، وَانْتَهَرَهَا وَأَمَرَ النَّاسَ [ بِالنِّزُولِ ] فَنَزَلُوا ، وَلَمْ يَكُنْ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِلَ قَالَتْ : فَنَزَلُوا ، وَكَانَ يَوْمِي فَلَمَّا نَزَلُوا ضُرِبَ خِبَاءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَخَلَ فِيهِ قَالَتْ : فَلَمْ أَدْرِ عَلَى مَا أُهْجَمُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ [ مِنِّي ] فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا : تَعْلَمِينَ أَنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَبِيعَ يَوْمِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَيْءٍ أَبَدًا ، وَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لَكِ عَلَى أَنْ تُرْضِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِّي ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَخَذَتْ عَائِشَةُ خِمَارًا لَهَا قَدْ ثَرَدَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَذْكَى رِيحُهُ ، ثُمَّ لَبِسَتْ ثِيَابَهَا ، ثُمَّ انْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَفَعَتْ طَرَفَ الْخِبَاءِ ، فَقَالَ [ لَهَا ] : " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِكِ ؟ " قَالَتْ : ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ، قَالَ مَعَ أَهْلِهِ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الرَّوَاحِ قَالَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ : " [ يَا زَيْنَبُ ] أَفْقِرِي أُخْتَكِ صَفِيَّةَ جَمَلًا " وَكَانَتْ مِنْ أَكْثَرِهِنَّ ظَهْرًا " فَقَالَتْ : أَنَا أُفْقِرُ يَهُودِيَّتَكَ ؟ فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْهَا فَهَجَرَهَا فَلَمْ يُكَلِّمْهَا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَأَيَّامَ مِنًى فِي سَفَرِهِ - حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ - وَالْمُحَرَّمَ وَصَفَرَ فَلَمْ يَأْتِهَا ، وَلَمْ يَقْسِمْ لَهَا حَتَّى يَئِسَتْ مِنْهُ فَلَمَّا كَانَ شَهْرُ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ دَخَلَ عَلَيْهَا فَرَأَتْ ظِلَّهُ فَقَالَتْ : إِنَّ هَذَا لَظِلُّ رَجُلٍ وَمَا يَدْخُلُ عَلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَنْ هَذَا ؟ فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَصْنَعُ حِينَ دَخَلْتَ عَلَيَّ ؟ قَالَتْ : وَكَانَتْ لَهَا جَارِيَةٌ ، وَكَانَتْ تَخْبَئُوهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : فُلَانَةُ لَكَ فَمَشَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَرِيرِ زَيْنَبَ ، وَكَانَ قَدْ رُفِعَ فَوَضَعَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَصَابَ أَهْلَهُ وَرَضِيَ عَنْهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سُمَيَّةُ رَوَى لَهَا أَبُو دَاوُدَ ، وَغَيْرُهُ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهَا أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کو ساتھ لے کر حج کے لئے تشریف لے گئے راستے میں ایک جگہ پر ایک شخص اترا اور اس نے ان خواتین کے اونٹوں کو لے کے چلنا شروع کیا وہ تیزی سے چلنے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آرام سے تم آبگینوں کو لے کے جا رہے ہو یعنی خواتین کو لے کے جا رہے ہو وہ لوگ چلتے ہوئے جا رہے تھے اسی دوران سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیٹھ گیا حالانکہ ان کا اونٹ سب سے اچھا تھا وہ رونے لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کو اس بارے میں بتایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک کے ذریعے ان کے آنسو پونچھنے لگے لیکن ان کے رونے میں اضافہ ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں منع کر رہے تھے جب ان کا رونا زیادہ ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ڈانٹا اور لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ پڑاؤ کر لیں لوگوں نے پڑاؤ کر لیا حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑاؤ کرنے کا ارادہ نہیں تھا سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : لوگوں نے پڑاؤ کر لیا وہ میری باری کا مخصوص دن تھا جب لوگوں نے پڑاؤ کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خیمہ لگایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے گئے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کروں مجھے یہ اندیشہ تھا کہ شاید آپ کو مجھ پر غصہ ہو گا میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور میں نے ان سے کہا: تم یہ بات جانتی ہو کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے مخصوص دن کو کبھی بھی کسی بھی چیز کے عوض میں نہیں دے سکتی لیکن میں اپنا مخصوص دن تمہیں دیتی ہوں ۔ اس شرط پر کہ تم اللہ کے رسول کو مجھ سے راضی کروا دو ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ٹھیک ہے پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی چادر اوڑھی اس پر زعفران لگایا ہوا تھا انہوں نے اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو آنا شروع ہو جائے پھر انہوں نے عمدہ لباس پہنا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف لے گئیں انہوں نے خیمے کا کنارہ اٹھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے آج تمہارا مخصوص دن نہیں ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ، جسے وہ چاہتا ہے اسے عطا کر دیتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر اپنی اہلیہ کے ساتھ گزاری جب روانگی کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کہا: اے زینب ! تم ایک اونٹ اپنی بہن صفیہ کو دیدو اس خاتون کے پاس سب سے زیادہ سواریاں تھیں انہوں نے کہا: کیا میں آپ کی یہودی عورت کو دیدوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی یہ بات زبانی سنی ، تو آپ غصے میں آ گئے ، اور آپ نے ان کے ساتھ لاتعلقی اختیار کر لی اور آپ نے ان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ آپ مکہ آ گئے سفر کے ایام کے دوران منی کے ایام میں آپ نے ان سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ آ گئے پھر محرم بھی گزر گیا صفر بھی گزر گیا لیکن آپ ان کے پاس تشریف نہیں لائے ، اور آپ نے انہیں باری میں سے حصہ بھی نہیں دیا یہاں تک کہ وہ آپ کی طرف سے مایوس ہو گئیں جب ربیع الاول کا مہینہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے آپ کا سایہ دیکھا تو بولیں یہ ، تو کسی مرد کا سایہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو میرے ہاں تشریف لاتے نہیں ہیں ، تو پھر یہ کون ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے ، تو جب انہوں نے دیکھا تو عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ میرے ہاں تشریف لائے ہیں ، تو میں کیا کروں ان کی ایک کنیز تھیں جسے انہوں نے سنبھال کے رکھا ہوا تھا انہوں نے عرض کی : وہ کنیز آپ کی ہوئی پھر آپ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پلنگ کی طرف تشریف لے گئے جسے اٹھا لیا گیا تھا آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے بچھایا اور پھر اپنی اہلیہ کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا اور آپ ان سے راضی ہو گئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سمیہ نامی خاتون ہیں امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے اس کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں کسی نے بھی اس خاتون کو ضعیف قرار نہیں دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (337/6)»
حدیث نمبر: 7692
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : بَعَثَتْ صَفِيَّةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْهُ لَهُ ، وَهُوَ عِنْدِي فَلَمَّا رَأَيْتُ الْجَارِيَةَ أَخَذَتْنِي رَعْدَةٌ حَتَّى اسْتَقْبَلَتْنِي أَفْكَلٌ فَضَرَبْتُ الْقَصْعَةَ فَرَمَيْتُ بِهَا ، قَالَتْ : فَنَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَلْعَنَنِي الْيَوْمَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ . ¤ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا بھیجا جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے ہاں موجود تھے جب میں نے کنیز کو دیکھا تو مجھے غصہ آ گیا جب وہ کنیز میرے سامنے آئی ، تو میں نے پیالے پر ہاتھ مار کر اسے پھینک دیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو مجھے آپ کے چہرے پر غصے کا اندازہ ہو گیا میں نے عرض کی : میں اللہ کے رسول کی پناہ مانگتی ہوں ۔ اس بات سے کہ آپ مجھ پر لعنت کریں ۔ میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (130/6)»
حدیث نمبر: 7693
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَتْ عِنْدَنَا أُمُّ سَلَمَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ جُنْحِ اللَّيْلِ قَالَتْ : فَذَكَرْتُ شَيْئًا صَنَعَهُ بِيَدِهِ وَجَعَلَ لَا يَفْطَنُ لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : وَجَعَلَتْ تُومِئُ إِلَيْهِ حَتَّى فَطِنَ قَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ : أَهَكَذَا الْآنَ أَمَا كَانَ وَاحِدَةٌ مِنَّا عِنْدَكِ إِلَّا فِي خَلَائِهِ كَمَا أَرَى وَسَبَّتْ عَائِشَةَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَاهَا فَتَأْبَى فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبِّيهَا " فَسَبَّتْهَا حَتَّى غَلَبَتْهَا فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ فَقَالَتْ : إِنَّ عَائِشَةَ سَبَّتْهَا وَقَالَتْ لَكُمْ وَقَالَتْ لَكُمْ فَقَالَ عَلِيٌّ [ لِفَاطِمَةَ ] : اذْهَبِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ : إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَنَا وَقَالَتْ لَنَا ، فَأَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ الَّذِي قَالَ لَهَا فَقَالَ : أَمَا كَفَاكِ إِلَّا أَنْ قَالَتْ لَنَا عَائِشَةُ وَقَالَتْ لَنَا حَتَّى أَتَتْكِ فَاطِمَةُ فَقَالَتْ لَهَا : إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَرَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ فَذَكَرَتْ لَهُ الَّذِي قَالَ لَهَا فَقَالَ : أَمَا كَفَاكَ إِلَّا أَنْ قَالَتْ لَنَا عَائِشَةُ وَقَالَتْ لَنَا حَتَّى أَتَتْكَ فَاطِمَةُ فَقَالَتْ لَهَا : إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ أُمِّ سَلَمَةَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ ، وَهُوَ أَيْضًا أَخْصَرُ مِنْ هَذَا - وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہمارے پاس موجود تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آغاز کے وقت تشریف لائے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے ایک چیز یاد آئی جو آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے بنائی تھی سیدہ ام سلمہ ” کو اس کا پتہ نہیں چلنا چاہیے تھا ، میں نے اشارے کنائے میں آپ کی توجہ اس طرف مبذول کروانا چاہی ، تو آپ کو ( میرے مدعا کی ) سمجھ آ گئی ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا اس وقت اس طرح ہو رہا ہے ؟ کیا ہم میں سے کوئی ایک آپ کے پاس صرف اس وقت ہو سکتی ہے ، جب آپ تنہا ہوں ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو برا کہنا شروع کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں منع کرنے لگے لیکن وہ نہیں مانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی اسے جواب دو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں برا کہنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ ان پر غالب آ گئیں ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلی گئیں اور یہ کہا: عائشہ نے انہیں برا کہا: ہے ، اور تم لوگوں کے بارے میں یہ کہا: ہے ، اور وہ کہا: ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ کی خدمت میں عرض کرو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے بارے میں یہ کہا: ہے ، اور یہ کہا: ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کے سامنے وہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! اوہ تمہارے باپ کی محبوب شخصیت ہے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے وہ بات ذکر کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ارشاد فرمائی تھی ، تو انہوں نے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے بارے میں یہ کہا: اور وہ کہا: ، لیکن جب فاطمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں تو آپ نے یہ فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! یہ تمہارے باپ کی محبوب شخصیت ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے اس میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی جگہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا ہے ، اور ان کی روایت کی اس روایت سے زیادہ مختصر ہے ، اور باقی اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7693
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 7694
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : وَكَانَ مَتَاعِي فِيهِ خِفٌّ ، وَكَانَ عَلَى جَمَلٍ نَاجٍ ، وَكَانَ مَتَاعُ صَفِيَّةَ فِيهِ ثِقَلٌ ، وَكَانَ عَلَى جَمَلٍ ثَفَالٍ بَطِيءٍ يُبْطِئُ بِالرَّكْبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوِّلُوا مَتَاعَ عَائِشَةَ عَلَى جَمَلِ صَفِيَّةَ وَحَوِّلُوا مَتَاعَ صَفِيَّةَ عَلَى جَمَلِ عَائِشَةَ حَتَّى يَمْضِيَ الرَّكْبُ " قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ : يَا لِعِبَادِ اللَّهِ ، غَلَبَتْنَا هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ مَتَاعَكِ كَانَ فِيهِ خِفٌّ ، وَكَانَ مَتَاعُ صَفِيَّةَ فِيهِ ثِقَلٌ فَأَبْطَأَ بِالرَّكْبِ فَحَوَّلْنَا مَتَاعَهَا عَلَى بَعِيرِكِ وَحَوَّلْنَا مَتَاعَكِ عَلَى بَعِيرِهَا " قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : فَتَبَسَّمَ فَقَالَ : " أَوَ فِي شَكٍّ أَنْتِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ فَهَلَّا عَدَلْتَ ؟ وَسَمِعَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَكَانَ فِيهِ غَرْبٌ - أَيْ حِدَّةٌ - فَأَقْبَلَ عَلَيَّ وَلَطَمَ وَجْهِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلًا يَا أَبَا بَكْرٍ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالَتْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْغَيْرَى لَا تُبْصِرُ أَسْفَلَ الْوَادِي مِنْ أَعْلَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةُ ابْنِ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو الشَّيْخِ بْنُ حِبَّانَ فِي كِتَابِ الْأَمْثَالِ وَلَيْسَ فِيهِ غَيْرُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ ، وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرا سامان کم تھا ، اور وہ ایک تگڑے اونٹ پر تھا ، اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا سامان زیادہ تھا ، اور وہ ایک سست اور کمزور اونٹ پر تھا جس کی وجہ سے دیگر سواروں کو چلنے میں مشکل ہو رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عائشہ کا سامان منتقل کر کے صفیہ کے اونٹ پر رکھ دو اور صفیہ کا سامان منتقل کر کے عائشہ کے اونٹ پر رکھ دو تاکہ سوار چلتے رہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب میں نے یہ بات دیکھی ، تو میں نے کہا: اے اللہ کے بندو ! یہ یہودی عورت ہمارے مقابلے میں اللہ کے رسول پر غالب آ گئی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام عبداللہ ! تمہارا سامان ہلکا ہے ، اور صفیہ کا سامان وزنی ہے جس کی وجہ سے سواروں کو چلنے میں دشواری پیش آ رہی ہے ، تو ہم نے اس کا سامان تمہارے اونٹ پر منتقل کر دیا ہے ، اور تمہارا سامان اس کے اونٹ پر منتقل کر دیا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا: کیا آپ کا یہ کہنا نہیں ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے آپ نے ارشاد فرمایا : اے ام عبداللہ ! کیا تمہیں اس بارے میں شک ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا آپ یہ نہیں کہتے ہیں : کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو آپ عدل سے کام کیوں نہیں لیتے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے سنا ان کے مزاج میں تیزی تھی وہ میری طرف آئے ، اور انہوں نے میرے چہرے پر طمنچہ مارا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوبکر ! ٹھہر جاؤ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے جو کہا: ، کیا آپ نے وہ سنا نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مزاج کی تیزی کے وقت وادی کے اوپری اور نشیبی حصے کا فرق دکھائی نہیں دیتا ( یعنی غصے کے عالم میں کچھ سمجھ نہیں آتا ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایک راوی سلمہ بن فضل ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، جن میں یحیی بن معین ابن حبان اور ابوحاتم شامل ہیں جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت ابوشیخ بن حبان نے کتاب الامثال میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں اسامہ بن زید لیثی کے علاوہ اور کوئی راوی نہیں ہے ، اور وہ صحیح کے رجال میں سے ہیں اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7694
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7695
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ وَنَحْنُ مَعَهُ فَاعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ ، وَكَانَ مَعَ زَيْنَبَ فَضْلٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَعِيرَ صَفِيَّةَ قَدِ اعْتَلَّ فَلَوْ أَعْطَيْتِهَا بَعِيرًا لَكِ " قَالَتْ : أَنَا أُعْطِي هَذِهِ الْيَهُودِيَّةَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهَجَرَهَا بَقِيَّةَ ذِي الْحِجَّةِ وَمُحَرَّمٍ وَصَفَرٍ ، وَأَيَّامًا مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ ، حَتَّى رَفَعَتْ مَتَاعَهَا وَسَرِيرَهَا فَظَنَّتْ أَنَّهُ لَا حَاجَةَ لَهُ فِيهَا فَبَيْنَا هِيَ ذَاتَ يَوْمٍ قَاعِدَةٌ بِنِصْفِ النَّهَارِ إِذْ رَأَتْ ظِلَّهُ قَدْ أَقْبَلَ فَأَعَادَتْ سَرِيرَهَا وَمَتَاعَهَا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُمَيَّةُ رَوَى لَهَا أَبُو دَاوُدَ ، وَغَيْرُهُ ، وَلَمْ يَجْرَحْهَا أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ہم آپ کے ساتھ تھے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک اضافی سواری بھی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : صفیہ کا اونٹ بیمار ہو گیا ہے اگر تم اپنا اونٹ اسے دیدو ( تو یہ مناسب ہو گا ) انہوں نے عرض کی : کیا میں اس یہودی عورت کو دیدوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، اور آپ نے ذوالج کے مہینے کے بقیہ دن محرم کا مہینہ اور صفر کا مہینہ اور ربیع الاول کے مہینے کے کچھ دن ان سے لاتعلقی اختیار کیے رکھی یہاں تک کہ اس خاتون نے اپنا سامان اور بستر اٹھا دیا انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف نہیں لائیں گے ایک دن وہ دوپہر کے وقت بیٹھی ہوئی تھیں اسی دوران انہوں نے آپ کا سایہ دیکھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیں ، تو انہوں نے دوبارہ پلنگ بچھایا اور سامان رکھ دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاتون سمیہ ہیں امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے ان سے روایت نقل کی ہے ۔ کسی نے ان پر جرح نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7695
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔