مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ غَيْرَةِ النِّسَاءِ . باب: خواتین کے مزاج کی تیزی
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ وَنَحْنُ مَعَهُ فَاعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ ، وَكَانَ مَعَ زَيْنَبَ فَضْلٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَعِيرَ صَفِيَّةَ قَدِ اعْتَلَّ فَلَوْ أَعْطَيْتِهَا بَعِيرًا لَكِ " قَالَتْ : أَنَا أُعْطِي هَذِهِ الْيَهُودِيَّةَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهَجَرَهَا بَقِيَّةَ ذِي الْحِجَّةِ وَمُحَرَّمٍ وَصَفَرٍ ، وَأَيَّامًا مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ ، حَتَّى رَفَعَتْ مَتَاعَهَا وَسَرِيرَهَا فَظَنَّتْ أَنَّهُ لَا حَاجَةَ لَهُ فِيهَا فَبَيْنَا هِيَ ذَاتَ يَوْمٍ قَاعِدَةٌ بِنِصْفِ النَّهَارِ إِذْ رَأَتْ ظِلَّهُ قَدْ أَقْبَلَ فَأَعَادَتْ سَرِيرَهَا وَمَتَاعَهَا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُمَيَّةُ رَوَى لَهَا أَبُو دَاوُدَ ، وَغَيْرُهُ ، وَلَمْ يَجْرَحْهَا أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ہم آپ کے ساتھ تھے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک اضافی سواری بھی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : صفیہ کا اونٹ بیمار ہو گیا ہے اگر تم اپنا اونٹ اسے دیدو ( تو یہ مناسب ہو گا ) انہوں نے عرض کی : کیا میں اس یہودی عورت کو دیدوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، اور آپ نے ذوالج کے مہینے کے بقیہ دن محرم کا مہینہ اور صفر کا مہینہ اور ربیع الاول کے مہینے کے کچھ دن ان سے لاتعلقی اختیار کیے رکھی یہاں تک کہ اس خاتون نے اپنا سامان اور بستر اٹھا دیا انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف نہیں لائیں گے ایک دن وہ دوپہر کے وقت بیٹھی ہوئی تھیں اسی دوران انہوں نے آپ کا سایہ دیکھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیں ، تو انہوں نے دوبارہ پلنگ بچھایا اور سامان رکھ دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاتون سمیہ ہیں امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے ان سے روایت نقل کی ہے ۔ کسی نے ان پر جرح نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔