مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ غَيْرَةِ النِّسَاءِ . باب: خواتین کے مزاج کی تیزی
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّ بِنِسَائِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ نَزَلَ رَجُلٌ فَسَاقَ بِهِنَّ فَأَسْرَعَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَاكَ سَوْقُكَ بِالْقَوَارِيرِ " يَعْنِي : النِّسَاءَ فَبَيْنَا هُمْ يَسِيرُونَ بَرَكَ بِصَفِيَّةَ ابْنَةِ حُيَيٍّ جَمَلُهَا ، وَكَانَتْ مِنْ أَحَسَنِهِنَّ ظَهْرًا فَبَكَتْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ دُمُوعَهَا بِيَدِهِ وَجَعَلَتْ تَزْدَادُ بُكَاءً ، وَهُوَ يَنْهَاهَا فَلَمَّا أَكْثَرَتْ زَبَرَهَا ، وَانْتَهَرَهَا وَأَمَرَ النَّاسَ [ بِالنِّزُولِ ] فَنَزَلُوا ، وَلَمْ يَكُنْ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِلَ قَالَتْ : فَنَزَلُوا ، وَكَانَ يَوْمِي فَلَمَّا نَزَلُوا ضُرِبَ خِبَاءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَخَلَ فِيهِ قَالَتْ : فَلَمْ أَدْرِ عَلَى مَا أُهْجَمُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ [ مِنِّي ] فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا : تَعْلَمِينَ أَنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَبِيعَ يَوْمِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَيْءٍ أَبَدًا ، وَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لَكِ عَلَى أَنْ تُرْضِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِّي ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَخَذَتْ عَائِشَةُ خِمَارًا لَهَا قَدْ ثَرَدَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَذْكَى رِيحُهُ ، ثُمَّ لَبِسَتْ ثِيَابَهَا ، ثُمَّ انْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَفَعَتْ طَرَفَ الْخِبَاءِ ، فَقَالَ [ لَهَا ] : " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِكِ ؟ " قَالَتْ : ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ، قَالَ مَعَ أَهْلِهِ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الرَّوَاحِ قَالَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ : " [ يَا زَيْنَبُ ] أَفْقِرِي أُخْتَكِ صَفِيَّةَ جَمَلًا " وَكَانَتْ مِنْ أَكْثَرِهِنَّ ظَهْرًا " فَقَالَتْ : أَنَا أُفْقِرُ يَهُودِيَّتَكَ ؟ فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْهَا فَهَجَرَهَا فَلَمْ يُكَلِّمْهَا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَأَيَّامَ مِنًى فِي سَفَرِهِ - حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ - وَالْمُحَرَّمَ وَصَفَرَ فَلَمْ يَأْتِهَا ، وَلَمْ يَقْسِمْ لَهَا حَتَّى يَئِسَتْ مِنْهُ فَلَمَّا كَانَ شَهْرُ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ دَخَلَ عَلَيْهَا فَرَأَتْ ظِلَّهُ فَقَالَتْ : إِنَّ هَذَا لَظِلُّ رَجُلٍ وَمَا يَدْخُلُ عَلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَنْ هَذَا ؟ فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَصْنَعُ حِينَ دَخَلْتَ عَلَيَّ ؟ قَالَتْ : وَكَانَتْ لَهَا جَارِيَةٌ ، وَكَانَتْ تَخْبَئُوهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : فُلَانَةُ لَكَ فَمَشَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَرِيرِ زَيْنَبَ ، وَكَانَ قَدْ رُفِعَ فَوَضَعَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَصَابَ أَهْلَهُ وَرَضِيَ عَنْهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سُمَيَّةُ رَوَى لَهَا أَبُو دَاوُدَ ، وَغَيْرُهُ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهَا أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کو ساتھ لے کر حج کے لئے تشریف لے گئے راستے میں ایک جگہ پر ایک شخص اترا اور اس نے ان خواتین کے اونٹوں کو لے کے چلنا شروع کیا وہ تیزی سے چلنے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آرام سے تم آبگینوں کو لے کے جا رہے ہو یعنی خواتین کو لے کے جا رہے ہو وہ لوگ چلتے ہوئے جا رہے تھے اسی دوران سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیٹھ گیا حالانکہ ان کا اونٹ سب سے اچھا تھا وہ رونے لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کو اس بارے میں بتایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک کے ذریعے ان کے آنسو پونچھنے لگے لیکن ان کے رونے میں اضافہ ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں منع کر رہے تھے جب ان کا رونا زیادہ ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ڈانٹا اور لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ پڑاؤ کر لیں لوگوں نے پڑاؤ کر لیا حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑاؤ کرنے کا ارادہ نہیں تھا سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : لوگوں نے پڑاؤ کر لیا وہ میری باری کا مخصوص دن تھا جب لوگوں نے پڑاؤ کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خیمہ لگایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے گئے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کروں مجھے یہ اندیشہ تھا کہ شاید آپ کو مجھ پر غصہ ہو گا میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور میں نے ان سے کہا: تم یہ بات جانتی ہو کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے مخصوص دن کو کبھی بھی کسی بھی چیز کے عوض میں نہیں دے سکتی لیکن میں اپنا مخصوص دن تمہیں دیتی ہوں ۔ اس شرط پر کہ تم اللہ کے رسول کو مجھ سے راضی کروا دو ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ٹھیک ہے پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی چادر اوڑھی اس پر زعفران لگایا ہوا تھا انہوں نے اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو آنا شروع ہو جائے پھر انہوں نے عمدہ لباس پہنا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف لے گئیں انہوں نے خیمے کا کنارہ اٹھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے آج تمہارا مخصوص دن نہیں ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ، جسے وہ چاہتا ہے اسے عطا کر دیتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر اپنی اہلیہ کے ساتھ گزاری جب روانگی کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کہا: اے زینب ! تم ایک اونٹ اپنی بہن صفیہ کو دیدو اس خاتون کے پاس سب سے زیادہ سواریاں تھیں انہوں نے کہا: کیا میں آپ کی یہودی عورت کو دیدوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی یہ بات زبانی سنی ، تو آپ غصے میں آ گئے ، اور آپ نے ان کے ساتھ لاتعلقی اختیار کر لی اور آپ نے ان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ آپ مکہ آ گئے سفر کے ایام کے دوران منی کے ایام میں آپ نے ان سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ آ گئے پھر محرم بھی گزر گیا صفر بھی گزر گیا لیکن آپ ان کے پاس تشریف نہیں لائے ، اور آپ نے انہیں باری میں سے حصہ بھی نہیں دیا یہاں تک کہ وہ آپ کی طرف سے مایوس ہو گئیں جب ربیع الاول کا مہینہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے آپ کا سایہ دیکھا تو بولیں یہ ، تو کسی مرد کا سایہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو میرے ہاں تشریف لاتے نہیں ہیں ، تو پھر یہ کون ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے ، تو جب انہوں نے دیکھا تو عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ میرے ہاں تشریف لائے ہیں ، تو میں کیا کروں ان کی ایک کنیز تھیں جسے انہوں نے سنبھال کے رکھا ہوا تھا انہوں نے عرض کی : وہ کنیز آپ کی ہوئی پھر آپ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پلنگ کی طرف تشریف لے گئے جسے اٹھا لیا گیا تھا آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے بچھایا اور پھر اپنی اہلیہ کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا اور آپ ان سے راضی ہو گئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سمیہ نامی خاتون ہیں امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے اس کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں کسی نے بھی اس خاتون کو ضعیف قرار نہیں دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔