مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ . باب: خواتین کے ساتھ طرز سلوک
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ عُرْيَانَةٌ فَقَامَ إِلَيْهَا رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبًا وَضَمَّهَا إِلَيْهِ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : أَحْسَبُهَا امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْسَبُهَا غَيْرَى ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كَتَبَ الْغَيْرَةَ عَلَى النِّسَاءِ وَالْجِهَادَ عَلَى الرِّجَالِ فَمَنْ صَبَرَ مِنْهُنَّ كَانَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَوَثَّقَهُ الْبَزَّارُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے اسی دوران ایک عورت آئی جس کا لباس مناسب نہیں تھا حاضرین میں سے ایک صاحب اٹھے اور انہوں نے ایک چادر اس پر ڈال دی اور اس کو اپنے ساتھ چمٹا لیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا آپ کے اصحاب میں سے کسی نے عرض کی : میرا خیال ہے یہ اس شخص کی بیوی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا خیال ہے یہ غیرت ( یعنی سوکن کی وجہ سے جلن ) کا شکار ہے ، اللہ تعالیٰ نے خواتین پر غیرت لکھ دی ہے ، اور مردوں پر جہاد کو لازم قرار دیا ہے ، ان خواتین میں سے جو صبر سے کام لے گی ، اسے شہید کا اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن صباح ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور امام بزار نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔