مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ . باب: خواتین کے ساتھ طرز سلوک
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اجْتَمَعَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَعَاهَدْنَ أَنْ يَصْدُقْنَ بَيْنَهُنَّ ، وَلَا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا ، فَقَالَتِ الْأُولَى : زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ لَا سَهْلٌ فَيُرْتَقَى ، وَلَا سَمِينٌ فَيُنْتَقَلَ ، قَالَتِ الثَّانِيَةُ : زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَذَرَهُ ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ ، قَالَتِ الثَّالِثَةُ : زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ ، قَالَتِ الرَّابِعَةُ : زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ ، وَإِنَّ شَرِبَ اشْتَفَّ ، وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ ، وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ ، قَالَتِ الْخَامِسَةُ : زَوْجِي عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ ، قَالَتِ السَّادِسَةُ : زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرَّ ، وَلَا قَرَّ ، وَلَا مَخَافَةَ ، قَالَتِ السَّابِعَةُ : زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ ، وَلَا يُسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ ، قَالَتِ الثَّامِنَةُ : زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبِ وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ ، وَأَنَا أَغْلِبُهُ وَالنَّاسُ يَغْلِبُ ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ : زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِي ، قَالَتِ الْعَاشِرَةُ : زَوْجِي مَالِكُ وَمَا مَالِكٌ ؟ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ لَهُ إِبِلٌ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ ، قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ : زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبِجَّحَنِي فَبَجِحْتُ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ ، أُمُّ أَبِي زَرْعٍ وَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ تُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ ، بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا بِنْتُ أَبِي الزَّرْعِ طَوْعُ أُمِّهَا وَطَوْعُ أَبِيهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا ، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا ، وَلَا تَنْقُلُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا ، وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا ، خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ وَمَعَهَا ابْنَانِ لَهَا [ كَالْفَهْدَيْنِ ] يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا ، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا ، رَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا ، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا فَقَالَ : كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكَ فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا مَلَأَ أَصْغَرَ إِنَاءٍ مِنْ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ " . ¤ [ قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ " ] . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِمَامٌ حُجَّةٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : زمانہ جاہلیت میں گیارہ خواتین اکٹھی ہوئیں اور انہوں نے یہ طے کیا کہ وہ آپس میں سچ بولیں گی اور اپنے شوہروں کے بارے میں کوئی چیز نہیں چھپائیں گی ۔ پہلی نے کہا: میرا شوہر کمزور اونٹ کا وہ گوشت ہے جو پہاڑ کی چوٹی پہ رکھا ہوا ہے ۔ پہاڑ اتنا آسان نہیں کہ اس پر چڑھا جائے اور گوشت اتنا صحت مند نہیں کہ اسے منتقل کیا جائے ، دوسری نے کہا: میں اپنے شوہر کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گی کہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں اس کی کوئی بات نہیں چھوڑوں گی ، اور ہر ظاہر اور خفیہ بات بیان کر دوں گی ۔ تیسری نے کہا: میرے شوہر کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں ہے ، اگر میں بات کروں تو مجھے طلاق مل جائے اور اگر خاموش رہوں تو ( میری جان سولی پر ) لٹکی رہے ۔ چوتھی نے کہا: میرا شوہر جب کھاتا ہے تو ختم کر دیتا ہے ، جب پیتا ہے تو ختم کر دیتا ہے ، جب لیٹتا ہے تو دھت ہو کر سو جاتا ہے ، وہ اپنا ہاتھ بڑھا کر میری بے چینی کا انداز نہیں لگاتا ۔ پانچویں نے کہا: میرا شوہر نامرد ہے ، احمق ہے ، اسے ہر بیماری لاحق ہے اور پھر بھی وہ مار پیٹ بھی کرتا ہے ۔ چھٹی نے کہا: میرا شوہر تہامہ کی رات کی مانند ہے ۔ نہ گرم نہ ٹھنڈا ، نہ خوف کا شکار کرنے والا ۔ ساتویں نے کہا: میرا شوہر جب گھر میں آئے تو چیتا ہوتا ہے اور جب باہر جائے تو شیر ہوتا ہے ۔ اس نے جو عہد کیا ہو اس کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جاتا ۔ آٹھویں نے کہا: میرا شوہر چھونے میں خرگوش کی طرح ہے اور خوشبو میں زرنب نامی بوٹی کی طرح ہے ۔ میں اس پر غلبہ رکھتی ہوں اور لوگ اس سے مغلوب ہوتے ہیں ۔ نویں نے کہا: میرا شوہر بلند عمارت اور طویل دستر خوان والا ہے ، اس کی راکھ زیادہ ہوتی ہے اور اس کا گھر چوپال کے قریب ہے ۔ دسویں نے کہا: میرا شوہر مالک ہے اور مالک کے کیا کہنے ۔ مالک اس سے زیادہ بہتر ہے کہ اس کے بارے میں کچھ کہا: جائے ، اس کے پاس اونٹ ہیں جو چراگاہ میں کم جاتے ہیں ، اور باڑے میں زیادہ رہتے ہیں ۔ جب وہ ( مہمان کی آمد پر ) باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب انہیں ذبح کر دیا جائے گا ۔ گیارہویں نے کہا: میرا شوہر ابوزرع ہے ۔ اور ابوزرع کے کیا کہنے ۔ اس نے میرے کان زیور سے بھر دیے اور میرے بازو چربی سے بھر دیے ۔ اس نے مجھے اتنا خوش کیا کہ میں یہ بات بھول ہی گئی کہ اس نے مجھے چند بکریوں والے گھرانے میں پایا تھا اور پھر لا کر مجھے ایک ایسے گھر میں رکھ دیا جہاں گھوڑے تھے ، اونٹ تھے ، بیل تھے کسان تھے ۔ اس کے ہاں میں کوئی بات کرتی تھی تو مجھ پر تقید نہیں ہوتی تھی ۔ میں سوتی تھی تو صبح تک سوئی رہتی تھی ۔ کچھ پیتی تھی تو سیر ہو جاتی تھی ۔ ابوزرع کی ماں ، ابوزرع کی ماں کے کیا کہنے ۔ اس کے برتن ہمیشہ بھرے رہتے تھے اور اس کا گھر کشادہ تھا ۔ ابوزرع کا بیٹا ، ابوزرع کے بیٹے کے کیا کہنے ۔ ایک شاخ جتنی جگہ پر وہ پورا آ جاتا تھا اور بکری کے بچے کی دستی اس کا پیٹ بھر دیتی تھی ۔ ابوزرع کی بیٹی ، ابوزرع کی بیٹی کے کیا کہنے ۔ وہ ماں کی فرمانبردار تھی اور باپ کی فرمانبردار تھی اور بھرے ہوئے جسم کی مالک تھی اور اپنی پڑوسن ( یا سوکن ) یا غصے میں اضافہ کرنے کا باعث تھی ۔ ابوزرع کی کنیز ، ابوزرع کی کنیز کے کیا کہنے ۔ وہ ہمارے گھر کی بات باہر نہیں پھیلاتی تھی اور ہمارے گھر کی چیز باہر نہیں لے جاتی اور ہمارے گھر میں کوڑا کرکٹ اکٹھا نہیں ہونے دیتی تھی ۔ ایک دن ابوزرع نکلا ، اس وقت دودھ سے مکھن نکالا جا رہا تھا ، اس کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا ، جس کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی تھے ۔ وہ دونوں چیتے کے بچوں کی طرح تھے ، اور اس کے پہلو کے پاس دو اناروں کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔ تو ابوزرع نے مجھے طلاق دیدی اور اس کے ساتھ شادی کر لی ۔ اس کے بعد میں نے ایک خوش اخلاق نوجوان کے ساتھ شادی کر لی ۔ جو شہسوار بھی تھا اور بہادر بھی تھا ۔ اس نے مجھے طرح طرح کی نعمتیں دیں اور مجھے ہر طرح کی نعمت کا جوڑا عطا کیا اور کہا: اے اُم زرع ! تم بھی کھاؤ اور اپنے اہل خانہ کو بھی دو اس نے مجھے جو کچھ دیا ، اگر میں اس سب کو جمع کروں تو وہ ابوزرع کے سب سے چھوٹے برتن کو بھی نہیں بھرے گا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہارے لئے اسی طرح ہوں ، جیسے ابوزرع ، ام زرع کے لئے تھا ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے ، لیکن وہ ثقہ ، امام اور حجت ہیں ۔