کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خواتین کے ساتھ طرز سلوک
حدیث نمبر: 7681
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَدِيثًا فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ الْحَدِيثَ حَدِيثُ خُرَافَةَ فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا خُرَافَةُ ؟ إِنَّ خُرَافَةَ كَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ عُذْرَةَ أَسَرَتْهُ الْجِنُّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَكَثَ فِيهِمْ دَهْرًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَدُّوهُ إِلَى الْإِنْسِ فَكَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا رَأَى فِيهِمْ مِنَ الْأَعَاجِيبِ فَقَالَ النَّاسُ : حَدِيثُ خُرَافَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو ایک بات بیان کی ، تو ان ازواج میں سے ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بات ، تو خرافہ کی بات کی طرح کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ خرافہ کون ہے ؟ خرافہ عذرہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جسے زمانہ جاہلیت میں جنات نے قید کر دیا تھا وہ ایک طویل عرصے تک ان کے درمیان رہا پھر جنات نے اسے واپس انسانوں کی طرف بھیج دیا تو وہ لوگوں کو وہ باتیں بیان کیا کرتا تھا جو اس نے جنات میں عجیب و غریب چیزیں دیکھی تھیں ، تو لوگ یہ کہتے تھے کہ یہ خرافہ کی بات ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابر يعلى فى المسند (4443) اخرجه احمد فى المسند (157/6)»
حدیث نمبر: 7682
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَهَا بِحَدِيثٍ ، وَهُوَ مَعَهَا فِي لِحَافٍ فَقَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا حَدَّثْتَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ لَظَنَنْتُ أَنَّهُ حَدِيثُ خُرَافَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا حَدِيثُ خُرَافَةَ يَا عَائِشَةُ ؟ " قَالَتِ : الشَّيْءُ إِذَا لَمْ يَكُنْ قِيلَ حَدِيثُ خُرَافَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ حَدِيثُ خُرَافَةَ ، كَانَ خُرَافَةُ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ سَبَتْهُ الْجِنُّ ، وَكَانَ مَعَهُمْ فَإِذَا اسْتَرَقُوا السَّمْعَ أَخْبَرُوهُ فَخَبَّرَ بِهِ النَّاسَ فَيَجِدُونَهُ كَمَا قَالَ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يُقْدَحُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَّةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم اوسط میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک بات بیان کی آپ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ لحاف میں موجود تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر آپ نے مجھے یہ بات بیان نہ کی ہوتی ، تو میں یہی گمان کرتی کہ یہ خرافہ کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خرافہ کی بات کیا ہوتی ہے ؟ اے عائشہ ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کوئی ایسی چیز کہ جو نہ ہو اس کے بارے میں یہ کہا: جاتا ہے کہ یہ خرافہ کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے سچی بات خرافہ کی بات ہوتی ہے خرافہ بنو عذرہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جسے جنوں نے قید کر دیا تھا وہ ان کے ساتھ رہا جب وہ کوئی اطلاع چوری چھپے سنتے تھے ، تو وہ اسے بتا دیتے تھے خرافہ لوگوں کو بتا دیتا تھا تو لوگ اس صورت حال کو اسی طرح پاتے تھے جس طرح اس نے بیان کیا ہوتا تھا ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو قدح کا باعث نہیں ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ أحمد: صحیح، وإسنادہ طبرانی ضعیف
حدیث نمبر: 7683
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَرِيرَةٍ قَدْ طَبَخْتُهَا لَهُ فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ - وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَهَا - : كُلِي ، فَأَبَتْ فَقُلْتُ : لَتَأْكُلِينَ أَوْ لَأُلَطِّخَنَّ وَجْهَكِ فَأَبَتْ فَوَضَعْتُ يَدِي فِي الْحَرِيرَةِ فَطَلَبْتُ وَجْهَهَا فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ بِيَدِهِ لَهَا وَقَالَ لَهَا : " الْطَخِي وَجْهَهَا " فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهَا فَمَرَّ عُمَرُ فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَظَنَّ أَنَّهُ سَيَدْخُلُ فَقَالَ : " قُومَا فَاغْسِلَا وُجُوهَكُمَا " قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَا زِلْتُ أَهَابُ عُمَرَ لِهَيْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں حریرہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جسے میں نے آپ کے لئے پکایا تھا میں نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ان کے پاس موجود تھے آپ بھی کھا لیں انہوں نے انکار کر دیا میں نے کہا: یا تو آپ اسے کھا لیں گی یا میں اسے آپ کے چہرے پر مل دوں گی انہوں نے انکار کر دیا میں نے اپنا ہاتھ حریرہ میں ڈالا اور پھر ان کے چہرے کی طرف بڑھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان پر رکھا اور ان سے فرمایا : تم اسے اس کے چہرے پر لگا دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر ہنسنے لگے اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے انہوں نے کہا: اے عبداللہ ! اے عبداللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ گمان کیا کہ شاید یہ وہ اندر آنا چاہ رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں اٹھ کر اپنا چہرہ دھو لو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب سے میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا لحاظ کرتے ہیں اس کے بعد میں ہمیشہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا لحاظ کرتی ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7683
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4476)»
حدیث نمبر: 7684
وَعَنْ رُزَيْنَةَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ سَوْدَةَ الْيَمَانِيَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَزُورُهَا ، وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ فَجَاءَتْ سَوْدَةُ فِي هَيْئَةٍ وَفِي حَالَةٍ حَسَنَةٍ عَلَيْهَا بُرْدٌ مِنْ دُرُوعِ الْيَمَنِ وَخِمَارٌ كَذَلِكَ وَعَلَيْهَا نُقْطَتَانِ مِثْلَ الْعَدَسَتَيْنِ مِنْ صَبْرٍ وَزَعْفَرَانٍ إِلَى مُوقِهَا قَالَتْ عُلَيْلَةُ : وَأَدْرَكْتُ النِّسَاءَ يَتَزَيَّنَّ بِهِ فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ يَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَشِقًا ] وَهَذِهِ بَيْنَنَا تَبْرُقُ فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ : اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ فَقَالَتْ : لَأُفْسِدَنَّ عَلَيْهَا زِينَتَهَا قَالَتْ : مَا تَقُلْنَ ؟ وَكَانَ فِي أُذُنِهَا ثِقَلٌ قَالَتْ لَهَا حَفْصَةُ : يَا سَوْدَةُ خَرَجَ الْأَعْوَرُ ، قَالَتْ : نَعَمْ ؟ ! فَفَزِعَتْ فَزَعًا شَدِيدًا فَجَعَلَتْ تَنْتَفِضُ قَالَتْ : أَيْنَ أَخْتَبِئُ ؟ قَالَتْ : عَلَيْكِ بِالْخَيْمَةِ - خَيْمَةٍ لَهُمْ مِنْ سَعَفٍ يَخْتَبِئُونَ فِيهَا - فَذَهَبَتْ فَاخْتَبَأَتْ فِيهَا ، وَفِيهَا الْقَذَرُ وَنَسِيجُ الْعَنْكَبُوتِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا تَضْحَكَانِ لَا تَسْتَطِيعَانِ أَنْ تَتَكَلَّمَا مِنَ الضَّحِكِ فَقَالَ : " لِمَاذَا الضَّحِكُ ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَوْمَأَتَا بِأَيْدِيهِمَا إِلَى الْخَيْمَةِ فَذَهَبَ فَإِذَا سَوْدَةُ تُرْعَدُ فَقَالَ لَهَا : " يَا سَوْدَةُ مَا لَكِ ؟ " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ الْأَعْوَرُ ، قَالَ : " مَا خَرَجَ وَلَيَخْرُجَنَّ مَا خَرَجَ وَلَيَخْرُجَنَّ " [ ثُمَّ دَخَلَ ] فَأَخْرَجَهَا فَجَعَلَ يَنْفُضُ عَنْهَا الْغُبَارَ وَنَسِيجَ الْعَنْكَبُوتِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ : يَدْخُلُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ قَشْفَتَيْنِ وَهَذِهِ بَيْنَنَا تَبْرُقُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُنَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : سیدہ سودہ یمانیہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے کے لئے ان کے ہاں آئیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تیار ہو کر آئی تھیں ان کی حالت بڑی عمدہ تھی انہوں نے یمن کی عمدہ چادر پہنی ہوئی تھی اور عمدہ چادر اوڑھی ہوئی تھی اور ان چادروں پر دو نقطے تھے جو صبر اور زعفران کے تھے ، علیلہ نامی راوی خاتون نے کہا: میں نے خواتین کو پایا ہے کہ وہ اس کے ذریعے آراستہ ہوتی ہیں ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المؤمنین ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں گے ، اور یہ ہمارے درمیان بنی سنوری بیٹھی ہوئی ہو گی ، تو اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے حفصہ ! اللہ سے ڈرو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس کی تیاری کو ختم کرواتی ہوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : تم کیا کہو گی اس خاتون کے کانوں میں ثقل تھا ( یعنی شاید اس کی سماعت کمزور تھی ) ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: اے سودہ ! کانا ( یعنی دجال ) نکل آیا ہے ۔ انہوں نے کہا: اچھا وہ بہت زیادہ گھبرا گئیں اور پھر وہ اپنے زیور کو اتارنے لگیں انہوں نے دریافت کیا : میں اسے کہاں چھپاؤں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم خیمے میں چلی جاؤ ان لوگوں کا ایک کھجور کے خشک پتوں کا خیمہ تھا ، جس میں وہ چیزیں سنبھال کے رکھا کرتے تھے وہ خاتون گئیں اور اس میں چھپ گئیں اس میں کچرا پڑا ہوا تھا ، مکڑی کے جالے تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، تو اس دوران یہ دونوں خواتین ( یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ) ہنس رہی تھیں اور ہنسنے کی زیادتی کی وجہ سے اُن سے بات نہیں ہو پا رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ ہنسی کس وجہ سے ہے ؟ آپ نے تین مرتبہ یہ بات دریافت کی ، تو ان دونوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے خیمے کی طرف اشارہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے ، تو وہاں سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کانپ رہی تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے سودہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کانا ( یعنی دجال ) نکل آیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ نہیں نکلا ، لیکن وہ عنقریب نکل آئے گا ، وہ نہیں نکلا ، لیکن وہ عنقریب نکل آئے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے ، آپ نے انہیں باہر نکالا اور ان سے غبار اور مکڑیوں کے جالے کو صاف کرنا شروع کیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائیں گے ، تو ہم برے حال میں ہوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ ہمارے درمیان چمک رہی ہو گی ، اور اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7684
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7160) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (278/24)»
حدیث نمبر: 7685
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِهِ كُلَّ غَدَاةٍ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ فَكَانَتْ مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ عِنْدَهَا عَسَلٌ فَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا أَحْضَرَتْ لَهُ مِنْهُ شَيْئًا فَيَمْكُثُ عِنْدَهَا ، وَأَنَّ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَجَدَتَا مِنْ ذَلِكَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِمَا قَالَتَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَتَرَكَ ذَلِكَ الْعَسَلَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے پاس روزانہ صبح کے وقت تشریف لایا کرتے تھے اور انہیں سلام کیا کرتے تھے آپ کی ازواج میں سے ایک خاتون کے پاس شہد موجود تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تھے ، تو وہ کچھ شہد آپ کی خدمت میں پیش کر دیتی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ٹھہر جاتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو اس حوالے سے الجھن ہوئی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں خواتین کے پاس تشریف لائے ، تو ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں آپ سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ شہد ترک کر دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن یعقوب زمعی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے علی بن مدینی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7685
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6929) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (310/23)»
حدیث نمبر: 7686
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ : كَانَ زِنْجٌ يَلْعَبُونَ بِالْمَدِينَةِ فَوَضَعَتْ عَائِشَةُ مَنْكِبَهَا عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں : زنگی ( یعنی سیاہ فام لوگ ) مدینہ منورہ میں کرتب دکھا رہے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا کندھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر رکھا ہوا تھا ، اور انہیں دیکھ رہی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7686
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 7687
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : فَخَرْتُ بِمَالِ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ قَدْرَ أَلْفِ أَلْفِ أُوقِيَّةٍ فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْكُتِي يَا عَائِشَةُ ، فَإِنِّي لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ " ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ : " إِنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً اجْتَمَعْنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَعَاهَدْنَ لَتُخْبِرَنَّ كُلُّ امْرَأَةٍ بِمَا فِي زَوْجِهَا ، وَلَا تَكْذِبُ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتِ : اللَّيْلُ لَيْلُ تِهَامَةَ لَا حَرَّ ، وَلَا بَرْدَ ، وَلَا مَخَافَةَ ، وَلَا سَآمَةَ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتِ : الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ وَأَغْلِبُهُ وَالنَّاسُ يَغْلِبُ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ لَرَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِّ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : نَكَحْتُ مَالِكًا ، وَمَا مَالِكٌ ؟ لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَسَارِحِ قَلِيلَاتُ الْمَبَارِكِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : زَوْجِي لَا أَذْكُرُهُ ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ أَخْشَى أَنْ لَا أَذَرَهُ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِذَا دَخَلَ فَهِدَ ، وَإِذَا خَرَجَ أَسِدَ ، وَلَا يُسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ [ قَالَتْ : لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى جَبَلٍ لَا بِالسَّمِينِ فَيُنْتَقَلُ ، وَلَا بِالسَّهْلِ فَيُرْتَقَى إِلَيْهِ. ¤ قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ] قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ إِذَا أَكَلَ لَفَّ ، وَإِذَا شَرِبَ اشْتَفَّ ، وَإِذَا ذَبَحَ اغْتَثَّ ، وَإِذَا نَامَ الْتَفَّ ، وَلَا يُدْخِلُ الْكَفَّ فَيَعْلَمُ الْبَثَّ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : نَكَحْتُ الْعَشَنَّقَ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : نَكَحْتُ أَبَا زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيِّ أُذُنَيَّ ، وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ ، وَبِجَّحَ نَفْسِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ ، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ فَجَعَلَنِي فِي حَاصِلٍ وَصَاهِلٍ وَأَطِيطٍ ، وَدَائِسٍ ، وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ ، فَأَنَا أَنَامُ عِنْدَهُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ ، وَأَنْطِقُ فَلَا أُقَبَّحُ ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ ، مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعَ الْجَفْرَةِ ، بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ مِلْءُ إِزَارِهَا وَزَيْنُ أَبِيهَا وَزَيْنُ أُمِّهَا وَخَيْرُ جَارَتِهَا ، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تُخْرِجُ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا ، وَلَا تُهْلِكُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِي أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَإِذَا هُوَ بِأُمِّ غُلَامَيْنِ كَالسَّقْرَيْنِ فَتَزَوَّجَهَا أَبُو زَرْعٍ وَطَلَّقَنِي ، [ فَاسْتَبْدَلْتُ ] وَكُلُّ بَدَلٍ أَعْوَرُ فَنَكَحْتُ شَابًّا سَرِيًّا وَرَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَعْطَانِي نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ سَائِمَةٍ زَوْجًا ، فَقَالَ : امْتَارِي يَا أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ فَجَمَعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَلَمْ يَمْلَأْ أَصْغَرَ وِعَاءٍ مِنْ أَوْعِيَةِ أَبِي زَرْعٍ " . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ خَيْرٌ لِي مِنْ أَبِي زَرْعٍ . . ¤ قُلْتُ : لِعَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثُ أَبِي زَرْعٍ مَوْقُوفًا عَلَيْهَا لَيْسَ فِيهِ مِنَ الْمَرْفُوعِ غَيْرَ قَوْلِهِ : " كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ بَعْضِهِمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَبَقِيَّتُهُمْ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يُقْدَحُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنے والد کے مال کے حوالے سے فخر کا اظہار کیا ، جو ایک ہزار ، ہزار اوقیہ تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے عائشہ ! خاموش ہو جاؤ کیونکہ میں تمہارے لئے اسی طرح ہوں ، جیسے ابوزرع ، اُمِ زرع کے لئے تھا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان کرنا شروع کیا : ” زمانہ جاہلیت میں گیارہ خواتین اکھٹی ہوئیں اور انہوں نے یہ طے کیا کہ ہر خاتون اپنے شوہر کے بارے میں بتائے گی اور غلط بیانی نہیں کرے گی ، ایک خاتون سے کہا: گیا : اے فلاں عورت ! تم بتاؤ ، تو اس نے کہا: وہ تہامہ کی رات کی طرح ہے نہ زیادہ ٹھنڈا ، نہ زیادہ گرم ، نہ خوف کا شکار کرنے والا ، نہ افسوس کا شکار کرنے والا ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: اس کی خوشبو زرنب نام کی بوٹی کی طرح ہے ، اور وہ خرگوش کی طرح ملائم ہے ، میں اس پر غلبہ رکھتی ہوں اور وہ لوگوں پر غلبہ رکھتا ہے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ تو اس نے جواب دیا : میرے علم کے مطابق میرا شوہر بلند ستونوں کا مالک ، بڑے دستر خوان والا ، بہت زیادہ راکھ والا ، اور گھر کے پاس چوپال والا ہے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ تو اس نے بتایا : میں نے مالک کے ساتھ شادی کی جس کے پاس اونٹ ہیں ، جو زیادہ تر گھر کے پاس ( قربان ہونے کے لئے ) رہتے ہیں ، وہ چراہ گاہ میں کم ہی جاتے ہیں اور جب وہ ( کسی مہمان کی آمد پر ) باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب وہ ذبح ہو جائیں گے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: میں اپنے شوہر کا ذکر نہیں کروں گی ، کیونکہ اگر میں اس کا ذکر کروں گی تو اس کی ہر بات بیان کر دوں گی ، خفیہ اور علانیہ بات ظاہر کر دوں گی ۔ کوئی بات نہیں چھوڑوں گی ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق جب وہ گھر میں آتا ہے ، تو چیتا ہوتا ہے اور جب باہر جاتا ہے تو شیر ہوتا ہے ۔ اس نے جو عہد کیا ہو اس کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جاتا ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: وہ کمزور اونٹ کا گوشت ہے جو پہاڑی پر رکھا ہوا ہو ۔ نہ وہ اتنا صحت مند ہے کہ اسے منتقل کیا جائے اور نہ ہی اس تک رسائی اتنی آسان ہے کہ پہاڑ پر چڑھا جائے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق جب وہ کھاتا ہے تو سب کچھ ہڑپ کر جاتا ہے ۔ اور جب پیتا ہے تو سب کچھ ختم کر دیتا ہے ۔ جب جانور ذبح کرتا ہے تو ( اس کا گوشت ختم کر دیتا ہے ) اور جب سوتا ہے تو مد ہوش ہو کے سوتا ہے ۔ وہ ہتھیلی میری طرف نہیں بڑھاتا کہ اسے میری پراگندہ حالی کا پتہ چلے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: میرے شوہر کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے اگر میں بولوں سو مجھے طلاق ملتی ہے اور اگر میں خاموش رہوں تو ( جان سولی پر ) لٹکی رہتی ہے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: میرا شوہر نامرد ہے ، وہ احمق ہے ، وہ گفتگو نہیں کر سکتا ، اسے ہر قسم کی بیماری لاحق ہے اور وہ مار پیٹ بھی کرتا ہے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: میں نے ابوزرع کے ساتھ شادی کی اور ابوزرع بھی کیا آدمی تھا ، اس نے زیور سے میرے کان جھکا دیے اور میرے بازؤں کو چربی سے بھر دیا ، اس نے مجھے اپنی مہربانیوں سے اتنا خوش کر دیا کہ میں بھر پور خوش ہو گئی ۔ اس نے مجھے تھوڑی سی بکریوں کے مالک کے ایک چھوٹے سے گھرانے میں پایا تھا اور پھر وہ مجھے ایک ایسے گھر میں لے آیا ، جہاں گھوڑے ، اونٹ ، ہل چلانے والے بیل اور کسان موجود تھے ۔ میں اس کے ہاں جب سوتی تھی تو صبح تک سوئی رہتی تھی اور جب پیتی تھی تو خوب سیر ہو جاتی تھی ۔ جب میں جاتی تھی تو مجھ پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا ۔ ابوزرع کا بیٹا بھی کیا چیز ہے ۔ وہ اتنی سی جگہ میں پورا آ جاتا ہے جتنی جگہ پر کوئی نرم و نازک شاخ رکھی جاتی ہے اور بکری کے بچے کا شانہ اس کا پیٹ بھرنے کے لئے کفایت کر جاتا ہے ۔ ابوزرع کی بیٹی ، ابوزرع کی بیٹی بھی کیا چیز ہے ، جو بھرے ہوئے جسم کی مالک ہے ، ماں اور باپ کے لئے زینت کا باعث ہے اور اپنی پڑوسن ( یا سوکن ) کے حق میں سب سے بہتر ہے ۔ ابوزرع کی کنیز ، ابوزرع کی کنیز کے کیا کہنے ، وہ ہماری باتوں کی تفتیش نہیں کرتی اور گھر کی چیز باہر نہیں لے جاتی ۔ ایک مرتبہ ابوزرع میرے پاس سے نکلا ، اس وقت دودھ میں سے مکھن نکالا جا رہا تھا ، وہاں اس نے دو بچوں کی ماں کو دیکھا وہ بچے چیتے کے بچوں کی طرح تھے ۔ ابوزرع نے اس کے ساتھ شادی کر لی اور اس نے مجھے طلاق دیدی ۔ پھر میں نے ایک اور شادی کر لی ۔ میں نے ایک خوش اخلاق نوجوان کے ساتھ شادی کر لی ، جو بہادر بھی تھا اور شہسوار بھی تھا ۔ اس نے مجھے طرح طرح کی نعمتیں عطا کیں اور مختلف قسم کے جانور دیئے ، اور یہ کہا: اے اُم زرع ! انہیں تم استعمال کرو اور اپنے اہل خانہ کو بھی دو ۔ میں نے ان سب چیزوں کو جمع کیا تو وہ سب مل کے ابوزرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوٹے برتن کو بھی نہیں بھرتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے ابوزرع سے بہتر ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے ، جو ابوزرع کے بارے میں ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف ہے ۔ اس روایت میں صرف یہ الفاظ مرفوع ہیں : ” میں تمہارے لئے یوں ہوں ، جیسے ابوزرع ام زرع کے لئے تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ، اس کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں اور بقیہ رجال کی ابن حبان اور دیگر حضرات نے توثیق کی ہے ، اور بعض کے بارے میں ایسے کلام کیا گیا ہے ، جو قدح کا باعث نہیں ہو گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7687
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (173/23)»
حدیث نمبر: 7688
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ كَنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ " . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ قَرْيَةً مِنْ قُرَى الْيَمَنِ كَانَ بِهَا بُطُونٌ مِنْ بُطُونِ الْيَمَنِ ، وَفِيهَا إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً ، وَإِنَّهُنَّ خَرَجْنَ إِلَى مَجْلِسٍ لَهُنَّ فَقَالَ بَعْضُهُنَّ لِبَعْضٍ : تَعَالَوْا فَلْنَذْكُرْ بُعُولَتَنَا بِبَعْضِ مَا فِيهِمْ ، وَلَا نَكْذِبُ فَقِيلَ لِلْأُولَى تَكَلُّمِي قَالَتْ " ، قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَقَالَتِ الثَّانِيَةُ : وَهِيَ عَمْرَةُ بِنْتُ عَمْرٍو ، وَقِيلَ لِلثَّالِثَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ حُبَّا بِنْتُ كَعْبٍ ، قِيلَ لِلرَّابِعَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ هُدَدُ ابْنَةُ أَبِي هَرَوَيْةِ ، قِيلَ لِلْخَامِسَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ كَبْشَةُ ، قِيلَ لِلسَّادِسَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ هِنْدٌ ، قِيلَ لِلسَّابِعَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ حُبَّا بِنْتُ عَلْقَمَةَ ، قِيلَ لِلثَّامِنَةِ : تَكَلَّمِي وَهِيَ أَسْمَاءُ بِنْتُ عَبْدٍ ، قِيلَ لِلتَّاسِعَةِ : تَكَلَّمِي ، وَلَمْ يَسَمِّهَا ، قِيلَ لِلْعَاشِرَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ كَبْشَةُ بَنْتُ الْأَرْقَمِ ، قِيلَ لِأُمِّ زَرْعٍ : تَكَلَّمِي وَهِيَ بِنْتُ الْأُكَيْحِلِ بْنِ سَاعِدَةَ ، فَقَالَتْ : أَبُو زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ ؟ قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ . رَمَاهُ النَّسَائِيُّ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! میں تمہارے لئے یوں ہوں ، جیسے ابوزرع ام زرع کے لئے تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یمن کی ایک بستی میں یمن کا ایک قبیلہ رہتا تھا ۔ وہاں گیارہ خواتین تھیں ، وہ ایک محفل میں اکٹھی ہوئیں ، تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: آؤ ہم اپنے شوہروں کا ذکر کرتی ہیں اور کوئی غلط بیانی نہیں کریں گی ۔ تو پہلی سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ دوسری نے کہا: وہ عمرہ بنت عمرو تھی ، پھر تیسری سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ حبا بنت کعب تھی ۔ پھر چوتھی سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ ہدد بنت ابوہرویہ تھی ۔ پھر پانچویں سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ کبشہ تھی ۔ پھر چھٹی سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ ہند تھی ۔ پھر ساتویں سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ حبا بنت علقمہ تھی ۔ پھر آٹھویں سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ اسماء بنت عبد تھی ۔ پھر نویں سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ اس کا نام راوی نے ذکر نہیں کیا ۔ پھر دسویں سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ کبشہ بنت ارقم تھی ۔ پھر ام زرع سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ اکحیل بن ساعدہ کی صاحبزادی تھی تو اس نے یہ کہا: ابوزرع ، ابوزرع کے کیا کہنے ؟ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبیدہ بن محمد عمری کے حوالے سے نقل کی ہے ، جس پر امام نسائی رحمہ اللہ نے جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7688
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (176/23)»
حدیث نمبر: 7689
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اجْتَمَعَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَعَاهَدْنَ أَنْ يَصْدُقْنَ بَيْنَهُنَّ ، وَلَا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا ، فَقَالَتِ الْأُولَى : زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ لَا سَهْلٌ فَيُرْتَقَى ، وَلَا سَمِينٌ فَيُنْتَقَلَ ، قَالَتِ الثَّانِيَةُ : زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَذَرَهُ ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ ، قَالَتِ الثَّالِثَةُ : زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ ، قَالَتِ الرَّابِعَةُ : زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ ، وَإِنَّ شَرِبَ اشْتَفَّ ، وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ ، وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ ، قَالَتِ الْخَامِسَةُ : زَوْجِي عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ ، قَالَتِ السَّادِسَةُ : زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرَّ ، وَلَا قَرَّ ، وَلَا مَخَافَةَ ، قَالَتِ السَّابِعَةُ : زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ ، وَلَا يُسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ ، قَالَتِ الثَّامِنَةُ : زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبِ وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ ، وَأَنَا أَغْلِبُهُ وَالنَّاسُ يَغْلِبُ ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ : زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِي ، قَالَتِ الْعَاشِرَةُ : زَوْجِي مَالِكُ وَمَا مَالِكٌ ؟ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ لَهُ إِبِلٌ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ ، قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ : زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبِجَّحَنِي فَبَجِحْتُ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ ، أُمُّ أَبِي زَرْعٍ وَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ تُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ ، بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا بِنْتُ أَبِي الزَّرْعِ طَوْعُ أُمِّهَا وَطَوْعُ أَبِيهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا ، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا ، وَلَا تَنْقُلُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا ، وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا ، خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ وَمَعَهَا ابْنَانِ لَهَا [ كَالْفَهْدَيْنِ ] يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا ، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا ، رَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا ، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا فَقَالَ : كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكَ فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا مَلَأَ أَصْغَرَ إِنَاءٍ مِنْ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ " . ¤ [ قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ " ] . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِمَامٌ حُجَّةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : زمانہ جاہلیت میں گیارہ خواتین اکٹھی ہوئیں اور انہوں نے یہ طے کیا کہ وہ آپس میں سچ بولیں گی اور اپنے شوہروں کے بارے میں کوئی چیز نہیں چھپائیں گی ۔ پہلی نے کہا: میرا شوہر کمزور اونٹ کا وہ گوشت ہے جو پہاڑ کی چوٹی پہ رکھا ہوا ہے ۔ پہاڑ اتنا آسان نہیں کہ اس پر چڑھا جائے اور گوشت اتنا صحت مند نہیں کہ اسے منتقل کیا جائے ، دوسری نے کہا: میں اپنے شوہر کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گی کہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں اس کی کوئی بات نہیں چھوڑوں گی ، اور ہر ظاہر اور خفیہ بات بیان کر دوں گی ۔ تیسری نے کہا: میرے شوہر کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں ہے ، اگر میں بات کروں تو مجھے طلاق مل جائے اور اگر خاموش رہوں تو ( میری جان سولی پر ) لٹکی رہے ۔ چوتھی نے کہا: میرا شوہر جب کھاتا ہے تو ختم کر دیتا ہے ، جب پیتا ہے تو ختم کر دیتا ہے ، جب لیٹتا ہے تو دھت ہو کر سو جاتا ہے ، وہ اپنا ہاتھ بڑھا کر میری بے چینی کا انداز نہیں لگاتا ۔ پانچویں نے کہا: میرا شوہر نامرد ہے ، احمق ہے ، اسے ہر بیماری لاحق ہے اور پھر بھی وہ مار پیٹ بھی کرتا ہے ۔ چھٹی نے کہا: میرا شوہر تہامہ کی رات کی مانند ہے ۔ نہ گرم نہ ٹھنڈا ، نہ خوف کا شکار کرنے والا ۔ ساتویں نے کہا: میرا شوہر جب گھر میں آئے تو چیتا ہوتا ہے اور جب باہر جائے تو شیر ہوتا ہے ۔ اس نے جو عہد کیا ہو اس کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جاتا ۔ آٹھویں نے کہا: میرا شوہر چھونے میں خرگوش کی طرح ہے اور خوشبو میں زرنب نامی بوٹی کی طرح ہے ۔ میں اس پر غلبہ رکھتی ہوں اور لوگ اس سے مغلوب ہوتے ہیں ۔ نویں نے کہا: میرا شوہر بلند عمارت اور طویل دستر خوان والا ہے ، اس کی راکھ زیادہ ہوتی ہے اور اس کا گھر چوپال کے قریب ہے ۔ دسویں نے کہا: میرا شوہر مالک ہے اور مالک کے کیا کہنے ۔ مالک اس سے زیادہ بہتر ہے کہ اس کے بارے میں کچھ کہا: جائے ، اس کے پاس اونٹ ہیں جو چراگاہ میں کم جاتے ہیں ، اور باڑے میں زیادہ رہتے ہیں ۔ جب وہ ( مہمان کی آمد پر ) باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب انہیں ذبح کر دیا جائے گا ۔ گیارہویں نے کہا: میرا شوہر ابوزرع ہے ۔ اور ابوزرع کے کیا کہنے ۔ اس نے میرے کان زیور سے بھر دیے اور میرے بازو چربی سے بھر دیے ۔ اس نے مجھے اتنا خوش کیا کہ میں یہ بات بھول ہی گئی کہ اس نے مجھے چند بکریوں والے گھرانے میں پایا تھا اور پھر لا کر مجھے ایک ایسے گھر میں رکھ دیا جہاں گھوڑے تھے ، اونٹ تھے ، بیل تھے کسان تھے ۔ اس کے ہاں میں کوئی بات کرتی تھی تو مجھ پر تقید نہیں ہوتی تھی ۔ میں سوتی تھی تو صبح تک سوئی رہتی تھی ۔ کچھ پیتی تھی تو سیر ہو جاتی تھی ۔ ابوزرع کی ماں ، ابوزرع کی ماں کے کیا کہنے ۔ اس کے برتن ہمیشہ بھرے رہتے تھے اور اس کا گھر کشادہ تھا ۔ ابوزرع کا بیٹا ، ابوزرع کے بیٹے کے کیا کہنے ۔ ایک شاخ جتنی جگہ پر وہ پورا آ جاتا تھا اور بکری کے بچے کی دستی اس کا پیٹ بھر دیتی تھی ۔ ابوزرع کی بیٹی ، ابوزرع کی بیٹی کے کیا کہنے ۔ وہ ماں کی فرمانبردار تھی اور باپ کی فرمانبردار تھی اور بھرے ہوئے جسم کی مالک تھی اور اپنی پڑوسن ( یا سوکن ) یا غصے میں اضافہ کرنے کا باعث تھی ۔ ابوزرع کی کنیز ، ابوزرع کی کنیز کے کیا کہنے ۔ وہ ہمارے گھر کی بات باہر نہیں پھیلاتی تھی اور ہمارے گھر کی چیز باہر نہیں لے جاتی اور ہمارے گھر میں کوڑا کرکٹ اکٹھا نہیں ہونے دیتی تھی ۔ ایک دن ابوزرع نکلا ، اس وقت دودھ سے مکھن نکالا جا رہا تھا ، اس کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا ، جس کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی تھے ۔ وہ دونوں چیتے کے بچوں کی طرح تھے ، اور اس کے پہلو کے پاس دو اناروں کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔ تو ابوزرع نے مجھے طلاق دیدی اور اس کے ساتھ شادی کر لی ۔ اس کے بعد میں نے ایک خوش اخلاق نوجوان کے ساتھ شادی کر لی ۔ جو شہسوار بھی تھا اور بہادر بھی تھا ۔ اس نے مجھے طرح طرح کی نعمتیں دیں اور مجھے ہر طرح کی نعمت کا جوڑا عطا کیا اور کہا: اے اُم زرع ! تم بھی کھاؤ اور اپنے اہل خانہ کو بھی دو اس نے مجھے جو کچھ دیا ، اگر میں اس سب کو جمع کروں تو وہ ابوزرع کے سب سے چھوٹے برتن کو بھی نہیں بھرے گا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہارے لئے اسی طرح ہوں ، جیسے ابوزرع ، ام زرع کے لئے تھا ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے ، لیکن وہ ثقہ ، امام اور حجت ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7689
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (167/23)»
حدیث نمبر: 7690
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ عُرْيَانَةٌ فَقَامَ إِلَيْهَا رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبًا وَضَمَّهَا إِلَيْهِ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : أَحْسَبُهَا امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْسَبُهَا غَيْرَى ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كَتَبَ الْغَيْرَةَ عَلَى النِّسَاءِ وَالْجِهَادَ عَلَى الرِّجَالِ فَمَنْ صَبَرَ مِنْهُنَّ كَانَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَوَثَّقَهُ الْبَزَّارُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے اسی دوران ایک عورت آئی جس کا لباس مناسب نہیں تھا حاضرین میں سے ایک صاحب اٹھے اور انہوں نے ایک چادر اس پر ڈال دی اور اس کو اپنے ساتھ چمٹا لیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا آپ کے اصحاب میں سے کسی نے عرض کی : یہ اس شخص کی بیوی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے خواتین پر مزاج کی تیزی لکھ دی ہے ، اور مردوں پر جہاد کو لازم قرار دیا ہے ، جو شخص ان خواتین کے حوالے سے ، صبر سے کام لے گا ، اسے شہید کا اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن صباح ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور امام بزار نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7690
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1495)»