مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ . باب: خواتین کے ساتھ طرز سلوک
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ كَنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ " . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ قَرْيَةً مِنْ قُرَى الْيَمَنِ كَانَ بِهَا بُطُونٌ مِنْ بُطُونِ الْيَمَنِ ، وَفِيهَا إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً ، وَإِنَّهُنَّ خَرَجْنَ إِلَى مَجْلِسٍ لَهُنَّ فَقَالَ بَعْضُهُنَّ لِبَعْضٍ : تَعَالَوْا فَلْنَذْكُرْ بُعُولَتَنَا بِبَعْضِ مَا فِيهِمْ ، وَلَا نَكْذِبُ فَقِيلَ لِلْأُولَى تَكَلُّمِي قَالَتْ " ، قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَقَالَتِ الثَّانِيَةُ : وَهِيَ عَمْرَةُ بِنْتُ عَمْرٍو ، وَقِيلَ لِلثَّالِثَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ حُبَّا بِنْتُ كَعْبٍ ، قِيلَ لِلرَّابِعَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ هُدَدُ ابْنَةُ أَبِي هَرَوَيْةِ ، قِيلَ لِلْخَامِسَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ كَبْشَةُ ، قِيلَ لِلسَّادِسَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ هِنْدٌ ، قِيلَ لِلسَّابِعَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ حُبَّا بِنْتُ عَلْقَمَةَ ، قِيلَ لِلثَّامِنَةِ : تَكَلَّمِي وَهِيَ أَسْمَاءُ بِنْتُ عَبْدٍ ، قِيلَ لِلتَّاسِعَةِ : تَكَلَّمِي ، وَلَمْ يَسَمِّهَا ، قِيلَ لِلْعَاشِرَةِ : تَكَلَّمِي ، وَهِيَ كَبْشَةُ بَنْتُ الْأَرْقَمِ ، قِيلَ لِأُمِّ زَرْعٍ : تَكَلَّمِي وَهِيَ بِنْتُ الْأُكَيْحِلِ بْنِ سَاعِدَةَ ، فَقَالَتْ : أَبُو زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ ؟ قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ . رَمَاهُ النَّسَائِيُّ بِالْكَذِبِ . ¤سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! میں تمہارے لئے یوں ہوں ، جیسے ابوزرع ام زرع کے لئے تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یمن کی ایک بستی میں یمن کا ایک قبیلہ رہتا تھا ۔ وہاں گیارہ خواتین تھیں ، وہ ایک محفل میں اکٹھی ہوئیں ، تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: آؤ ہم اپنے شوہروں کا ذکر کرتی ہیں اور کوئی غلط بیانی نہیں کریں گی ۔ تو پہلی سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ دوسری نے کہا: وہ عمرہ بنت عمرو تھی ، پھر تیسری سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ حبا بنت کعب تھی ۔ پھر چوتھی سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ ہدد بنت ابوہرویہ تھی ۔ پھر پانچویں سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ کبشہ تھی ۔ پھر چھٹی سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ ہند تھی ۔ پھر ساتویں سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ حبا بنت علقمہ تھی ۔ پھر آٹھویں سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ اسماء بنت عبد تھی ۔ پھر نویں سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ اس کا نام راوی نے ذکر نہیں کیا ۔ پھر دسویں سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ کبشہ بنت ارقم تھی ۔ پھر ام زرع سے کہا: گیا : تم کلام کرو ۔ وہ اکحیل بن ساعدہ کی صاحبزادی تھی تو اس نے یہ کہا: ابوزرع ، ابوزرع کے کیا کہنے ؟ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبیدہ بن محمد عمری کے حوالے سے نقل کی ہے ، جس پر امام نسائی رحمہ اللہ نے جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔