حدیث نمبر: 7687
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : فَخَرْتُ بِمَالِ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ قَدْرَ أَلْفِ أَلْفِ أُوقِيَّةٍ فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْكُتِي يَا عَائِشَةُ ، فَإِنِّي لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ " ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ : " إِنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً اجْتَمَعْنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَعَاهَدْنَ لَتُخْبِرَنَّ كُلُّ امْرَأَةٍ بِمَا فِي زَوْجِهَا ، وَلَا تَكْذِبُ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتِ : اللَّيْلُ لَيْلُ تِهَامَةَ لَا حَرَّ ، وَلَا بَرْدَ ، وَلَا مَخَافَةَ ، وَلَا سَآمَةَ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتِ : الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ وَأَغْلِبُهُ وَالنَّاسُ يَغْلِبُ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ لَرَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِّ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : نَكَحْتُ مَالِكًا ، وَمَا مَالِكٌ ؟ لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَسَارِحِ قَلِيلَاتُ الْمَبَارِكِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : زَوْجِي لَا أَذْكُرُهُ ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ أَخْشَى أَنْ لَا أَذَرَهُ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِذَا دَخَلَ فَهِدَ ، وَإِذَا خَرَجَ أَسِدَ ، وَلَا يُسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ [ قَالَتْ : لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى جَبَلٍ لَا بِالسَّمِينِ فَيُنْتَقَلُ ، وَلَا بِالسَّهْلِ فَيُرْتَقَى إِلَيْهِ. ¤ قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ] قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ إِذَا أَكَلَ لَفَّ ، وَإِذَا شَرِبَ اشْتَفَّ ، وَإِذَا ذَبَحَ اغْتَثَّ ، وَإِذَا نَامَ الْتَفَّ ، وَلَا يُدْخِلُ الْكَفَّ فَيَعْلَمُ الْبَثَّ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : نَكَحْتُ الْعَشَنَّقَ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ ، قِيلَ : أَنْتِ يَا فُلَانَةُ ، قَالَتْ : نَكَحْتُ أَبَا زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيِّ أُذُنَيَّ ، وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ ، وَبِجَّحَ نَفْسِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ ، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ فَجَعَلَنِي فِي حَاصِلٍ وَصَاهِلٍ وَأَطِيطٍ ، وَدَائِسٍ ، وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ ، فَأَنَا أَنَامُ عِنْدَهُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ ، وَأَنْطِقُ فَلَا أُقَبَّحُ ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ ، مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعَ الْجَفْرَةِ ، بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ مِلْءُ إِزَارِهَا وَزَيْنُ أَبِيهَا وَزَيْنُ أُمِّهَا وَخَيْرُ جَارَتِهَا ، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تُخْرِجُ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا ، وَلَا تُهْلِكُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِي أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَإِذَا هُوَ بِأُمِّ غُلَامَيْنِ كَالسَّقْرَيْنِ فَتَزَوَّجَهَا أَبُو زَرْعٍ وَطَلَّقَنِي ، [ فَاسْتَبْدَلْتُ ] وَكُلُّ بَدَلٍ أَعْوَرُ فَنَكَحْتُ شَابًّا سَرِيًّا وَرَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَعْطَانِي نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ سَائِمَةٍ زَوْجًا ، فَقَالَ : امْتَارِي يَا أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ فَجَمَعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَلَمْ يَمْلَأْ أَصْغَرَ وِعَاءٍ مِنْ أَوْعِيَةِ أَبِي زَرْعٍ " . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ خَيْرٌ لِي مِنْ أَبِي زَرْعٍ . . ¤ قُلْتُ : لِعَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثُ أَبِي زَرْعٍ مَوْقُوفًا عَلَيْهَا لَيْسَ فِيهِ مِنَ الْمَرْفُوعِ غَيْرَ قَوْلِهِ : " كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ بَعْضِهِمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَبَقِيَّتُهُمْ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يُقْدَحُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنے والد کے مال کے حوالے سے فخر کا اظہار کیا ، جو ایک ہزار ، ہزار اوقیہ تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے عائشہ ! خاموش ہو جاؤ کیونکہ میں تمہارے لئے اسی طرح ہوں ، جیسے ابوزرع ، اُمِ زرع کے لئے تھا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان کرنا شروع کیا : ” زمانہ جاہلیت میں گیارہ خواتین اکھٹی ہوئیں اور انہوں نے یہ طے کیا کہ ہر خاتون اپنے شوہر کے بارے میں بتائے گی اور غلط بیانی نہیں کرے گی ، ایک خاتون سے کہا: گیا : اے فلاں عورت ! تم بتاؤ ، تو اس نے کہا: وہ تہامہ کی رات کی طرح ہے نہ زیادہ ٹھنڈا ، نہ زیادہ گرم ، نہ خوف کا شکار کرنے والا ، نہ افسوس کا شکار کرنے والا ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: اس کی خوشبو زرنب نام کی بوٹی کی طرح ہے ، اور وہ خرگوش کی طرح ملائم ہے ، میں اس پر غلبہ رکھتی ہوں اور وہ لوگوں پر غلبہ رکھتا ہے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ تو اس نے جواب دیا : میرے علم کے مطابق میرا شوہر بلند ستونوں کا مالک ، بڑے دستر خوان والا ، بہت زیادہ راکھ والا ، اور گھر کے پاس چوپال والا ہے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ تو اس نے بتایا : میں نے مالک کے ساتھ شادی کی جس کے پاس اونٹ ہیں ، جو زیادہ تر گھر کے پاس ( قربان ہونے کے لئے ) رہتے ہیں ، وہ چراہ گاہ میں کم ہی جاتے ہیں اور جب وہ ( کسی مہمان کی آمد پر ) باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب وہ ذبح ہو جائیں گے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: میں اپنے شوہر کا ذکر نہیں کروں گی ، کیونکہ اگر میں اس کا ذکر کروں گی تو اس کی ہر بات بیان کر دوں گی ، خفیہ اور علانیہ بات ظاہر کر دوں گی ۔ کوئی بات نہیں چھوڑوں گی ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق جب وہ گھر میں آتا ہے ، تو چیتا ہوتا ہے اور جب باہر جاتا ہے تو شیر ہوتا ہے ۔ اس نے جو عہد کیا ہو اس کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جاتا ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: وہ کمزور اونٹ کا گوشت ہے جو پہاڑی پر رکھا ہوا ہو ۔ نہ وہ اتنا صحت مند ہے کہ اسے منتقل کیا جائے اور نہ ہی اس تک رسائی اتنی آسان ہے کہ پہاڑ پر چڑھا جائے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق جب وہ کھاتا ہے تو سب کچھ ہڑپ کر جاتا ہے ۔ اور جب پیتا ہے تو سب کچھ ختم کر دیتا ہے ۔ جب جانور ذبح کرتا ہے تو ( اس کا گوشت ختم کر دیتا ہے ) اور جب سوتا ہے تو مد ہوش ہو کے سوتا ہے ۔ وہ ہتھیلی میری طرف نہیں بڑھاتا کہ اسے میری پراگندہ حالی کا پتہ چلے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: میرے شوہر کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے اگر میں بولوں سو مجھے طلاق ملتی ہے اور اگر میں خاموش رہوں تو ( جان سولی پر ) لٹکی رہتی ہے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: میرا شوہر نامرد ہے ، وہ احمق ہے ، وہ گفتگو نہیں کر سکتا ، اسے ہر قسم کی بیماری لاحق ہے اور وہ مار پیٹ بھی کرتا ہے ۔ پھر کہا: گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا: میں نے ابوزرع کے ساتھ شادی کی اور ابوزرع بھی کیا آدمی تھا ، اس نے زیور سے میرے کان جھکا دیے اور میرے بازؤں کو چربی سے بھر دیا ، اس نے مجھے اپنی مہربانیوں سے اتنا خوش کر دیا کہ میں بھر پور خوش ہو گئی ۔ اس نے مجھے تھوڑی سی بکریوں کے مالک کے ایک چھوٹے سے گھرانے میں پایا تھا اور پھر وہ مجھے ایک ایسے گھر میں لے آیا ، جہاں گھوڑے ، اونٹ ، ہل چلانے والے بیل اور کسان موجود تھے ۔ میں اس کے ہاں جب سوتی تھی تو صبح تک سوئی رہتی تھی اور جب پیتی تھی تو خوب سیر ہو جاتی تھی ۔ جب میں جاتی تھی تو مجھ پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا ۔ ابوزرع کا بیٹا بھی کیا چیز ہے ۔ وہ اتنی سی جگہ میں پورا آ جاتا ہے جتنی جگہ پر کوئی نرم و نازک شاخ رکھی جاتی ہے اور بکری کے بچے کا شانہ اس کا پیٹ بھرنے کے لئے کفایت کر جاتا ہے ۔ ابوزرع کی بیٹی ، ابوزرع کی بیٹی بھی کیا چیز ہے ، جو بھرے ہوئے جسم کی مالک ہے ، ماں اور باپ کے لئے زینت کا باعث ہے اور اپنی پڑوسن ( یا سوکن ) کے حق میں سب سے بہتر ہے ۔ ابوزرع کی کنیز ، ابوزرع کی کنیز کے کیا کہنے ، وہ ہماری باتوں کی تفتیش نہیں کرتی اور گھر کی چیز باہر نہیں لے جاتی ۔ ایک مرتبہ ابوزرع میرے پاس سے نکلا ، اس وقت دودھ میں سے مکھن نکالا جا رہا تھا ، وہاں اس نے دو بچوں کی ماں کو دیکھا وہ بچے چیتے کے بچوں کی طرح تھے ۔ ابوزرع نے اس کے ساتھ شادی کر لی اور اس نے مجھے طلاق دیدی ۔ پھر میں نے ایک اور شادی کر لی ۔ میں نے ایک خوش اخلاق نوجوان کے ساتھ شادی کر لی ، جو بہادر بھی تھا اور شہسوار بھی تھا ۔ اس نے مجھے طرح طرح کی نعمتیں عطا کیں اور مختلف قسم کے جانور دیئے ، اور یہ کہا: اے اُم زرع ! انہیں تم استعمال کرو اور اپنے اہل خانہ کو بھی دو ۔ میں نے ان سب چیزوں کو جمع کیا تو وہ سب مل کے ابوزرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوٹے برتن کو بھی نہیں بھرتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے ابوزرع سے بہتر ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے ، جو ابوزرع کے بارے میں ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف ہے ۔ اس روایت میں صرف یہ الفاظ مرفوع ہیں : ” میں تمہارے لئے یوں ہوں ، جیسے ابوزرع ام زرع کے لئے تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ، اس کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں اور بقیہ رجال کی ابن حبان اور دیگر حضرات نے توثیق کی ہے ، اور بعض کے بارے میں ایسے کلام کیا گیا ہے ، جو قدح کا باعث نہیں ہو گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7687
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (173/23)»