مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ . باب: خواتین کے ساتھ طرز سلوک
وَعَنْ رُزَيْنَةَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ سَوْدَةَ الْيَمَانِيَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَزُورُهَا ، وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ فَجَاءَتْ سَوْدَةُ فِي هَيْئَةٍ وَفِي حَالَةٍ حَسَنَةٍ عَلَيْهَا بُرْدٌ مِنْ دُرُوعِ الْيَمَنِ وَخِمَارٌ كَذَلِكَ وَعَلَيْهَا نُقْطَتَانِ مِثْلَ الْعَدَسَتَيْنِ مِنْ صَبْرٍ وَزَعْفَرَانٍ إِلَى مُوقِهَا قَالَتْ عُلَيْلَةُ : وَأَدْرَكْتُ النِّسَاءَ يَتَزَيَّنَّ بِهِ فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ يَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَشِقًا ] وَهَذِهِ بَيْنَنَا تَبْرُقُ فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ : اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ فَقَالَتْ : لَأُفْسِدَنَّ عَلَيْهَا زِينَتَهَا قَالَتْ : مَا تَقُلْنَ ؟ وَكَانَ فِي أُذُنِهَا ثِقَلٌ قَالَتْ لَهَا حَفْصَةُ : يَا سَوْدَةُ خَرَجَ الْأَعْوَرُ ، قَالَتْ : نَعَمْ ؟ ! فَفَزِعَتْ فَزَعًا شَدِيدًا فَجَعَلَتْ تَنْتَفِضُ قَالَتْ : أَيْنَ أَخْتَبِئُ ؟ قَالَتْ : عَلَيْكِ بِالْخَيْمَةِ - خَيْمَةٍ لَهُمْ مِنْ سَعَفٍ يَخْتَبِئُونَ فِيهَا - فَذَهَبَتْ فَاخْتَبَأَتْ فِيهَا ، وَفِيهَا الْقَذَرُ وَنَسِيجُ الْعَنْكَبُوتِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا تَضْحَكَانِ لَا تَسْتَطِيعَانِ أَنْ تَتَكَلَّمَا مِنَ الضَّحِكِ فَقَالَ : " لِمَاذَا الضَّحِكُ ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَوْمَأَتَا بِأَيْدِيهِمَا إِلَى الْخَيْمَةِ فَذَهَبَ فَإِذَا سَوْدَةُ تُرْعَدُ فَقَالَ لَهَا : " يَا سَوْدَةُ مَا لَكِ ؟ " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ الْأَعْوَرُ ، قَالَ : " مَا خَرَجَ وَلَيَخْرُجَنَّ مَا خَرَجَ وَلَيَخْرُجَنَّ " [ ثُمَّ دَخَلَ ] فَأَخْرَجَهَا فَجَعَلَ يَنْفُضُ عَنْهَا الْغُبَارَ وَنَسِيجَ الْعَنْكَبُوتِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ : يَدْخُلُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ قَشْفَتَيْنِ وَهَذِهِ بَيْنَنَا تَبْرُقُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُنَّ . ¤سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : سیدہ سودہ یمانیہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے کے لئے ان کے ہاں آئیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تیار ہو کر آئی تھیں ان کی حالت بڑی عمدہ تھی انہوں نے یمن کی عمدہ چادر پہنی ہوئی تھی اور عمدہ چادر اوڑھی ہوئی تھی اور ان چادروں پر دو نقطے تھے جو صبر اور زعفران کے تھے ، علیلہ نامی راوی خاتون نے کہا: میں نے خواتین کو پایا ہے کہ وہ اس کے ذریعے آراستہ ہوتی ہیں ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المؤمنین ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں گے ، اور یہ ہمارے درمیان بنی سنوری بیٹھی ہوئی ہو گی ، تو اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے حفصہ ! اللہ سے ڈرو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس کی تیاری کو ختم کرواتی ہوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : تم کیا کہو گی اس خاتون کے کانوں میں ثقل تھا ( یعنی شاید اس کی سماعت کمزور تھی ) ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: اے سودہ ! کانا ( یعنی دجال ) نکل آیا ہے ۔ انہوں نے کہا: اچھا وہ بہت زیادہ گھبرا گئیں اور پھر وہ اپنے زیور کو اتارنے لگیں انہوں نے دریافت کیا : میں اسے کہاں چھپاؤں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم خیمے میں چلی جاؤ ان لوگوں کا ایک کھجور کے خشک پتوں کا خیمہ تھا ، جس میں وہ چیزیں سنبھال کے رکھا کرتے تھے وہ خاتون گئیں اور اس میں چھپ گئیں اس میں کچرا پڑا ہوا تھا ، مکڑی کے جالے تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، تو اس دوران یہ دونوں خواتین ( یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ) ہنس رہی تھیں اور ہنسنے کی زیادتی کی وجہ سے اُن سے بات نہیں ہو پا رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ ہنسی کس وجہ سے ہے ؟ آپ نے تین مرتبہ یہ بات دریافت کی ، تو ان دونوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے خیمے کی طرف اشارہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے ، تو وہاں سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کانپ رہی تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے سودہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کانا ( یعنی دجال ) نکل آیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ نہیں نکلا ، لیکن وہ عنقریب نکل آئے گا ، وہ نہیں نکلا ، لیکن وہ عنقریب نکل آئے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے ، آپ نے انہیں باہر نکالا اور ان سے غبار اور مکڑیوں کے جالے کو صاف کرنا شروع کیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائیں گے ، تو ہم برے حال میں ہوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ ہمارے درمیان چمک رہی ہو گی ، اور اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔