مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ . باب: خواتین کے ساتھ طرز سلوک
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَرِيرَةٍ قَدْ طَبَخْتُهَا لَهُ فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ - وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَهَا - : كُلِي ، فَأَبَتْ فَقُلْتُ : لَتَأْكُلِينَ أَوْ لَأُلَطِّخَنَّ وَجْهَكِ فَأَبَتْ فَوَضَعْتُ يَدِي فِي الْحَرِيرَةِ فَطَلَبْتُ وَجْهَهَا فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ بِيَدِهِ لَهَا وَقَالَ لَهَا : " الْطَخِي وَجْهَهَا " فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهَا فَمَرَّ عُمَرُ فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَظَنَّ أَنَّهُ سَيَدْخُلُ فَقَالَ : " قُومَا فَاغْسِلَا وُجُوهَكُمَا " قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَا زِلْتُ أَهَابُ عُمَرَ لِهَيْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں حریرہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جسے میں نے آپ کے لئے پکایا تھا میں نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ان کے پاس موجود تھے آپ بھی کھا لیں انہوں نے انکار کر دیا میں نے کہا: یا تو آپ اسے کھا لیں گی یا میں اسے آپ کے چہرے پر مل دوں گی انہوں نے انکار کر دیا میں نے اپنا ہاتھ حریرہ میں ڈالا اور پھر ان کے چہرے کی طرف بڑھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان پر رکھا اور ان سے فرمایا : تم اسے اس کے چہرے پر لگا دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر ہنسنے لگے اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے انہوں نے کہا: اے عبداللہ ! اے عبداللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ گمان کیا کہ شاید یہ وہ اندر آنا چاہ رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں اٹھ کر اپنا چہرہ دھو لو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب سے میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا لحاظ کرتے ہیں اس کے بعد میں ہمیشہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا لحاظ کرتی ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔