حدیث نمبر: 7685
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِهِ كُلَّ غَدَاةٍ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ فَكَانَتْ مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ عِنْدَهَا عَسَلٌ فَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا أَحْضَرَتْ لَهُ مِنْهُ شَيْئًا فَيَمْكُثُ عِنْدَهَا ، وَأَنَّ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَجَدَتَا مِنْ ذَلِكَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِمَا قَالَتَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَتَرَكَ ذَلِكَ الْعَسَلَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے پاس روزانہ صبح کے وقت تشریف لایا کرتے تھے اور انہیں سلام کیا کرتے تھے آپ کی ازواج میں سے ایک خاتون کے پاس شہد موجود تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تھے ، تو وہ کچھ شہد آپ کی خدمت میں پیش کر دیتی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ٹھہر جاتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو اس حوالے سے الجھن ہوئی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں خواتین کے پاس تشریف لائے ، تو ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں آپ سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ شہد ترک کر دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن یعقوب زمعی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے علی بن مدینی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7685
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6929) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (310/23)»