مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ . باب: عورت پر شوہر کے حق کا بیان
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَى النِّسَاءِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ فَإِذَا أَنَا مَعَهُنَّ فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُنَّ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِنَّكُنَّ أَكْثَرُ حَطَبِ جَهَنَّمَ " . فَنَادَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنْتُ جَرِيئَةً عَلَى كَلَامِهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ ؟ قَالَ : " إِنَّكُنَّ إِذَا أُعْطِيتُنَّ لَمْ تَشْكُرْنَ ، وَإِذَا ابْتُلِيتُنَّ لَمْ تَصْبِرْنَ ، وَإِذَا أُمْسِكَ عَلَيْكُنَّ شَكَوْتُنَّ وَإِيَّاكُنَّ وَكَفْرَ الْمُنَعَّمِينَ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ ؟ قَالَ : " الْمَرْأَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ ، وَقَدْ وَلَدَتْ لَهُ الْوَلَدَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فَتَقُولُ : مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مسجد کے ایک کونے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے پاس تشریف لائے میں ان خواتین میں موجود تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کی آواز سنی ، تو ارشاد فرمایا : اے خواتین کے گروہ ! تم جہنم کے ایندھن میں زیادہ ہو میں نے بلند آواز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا میں آپ کے ساتھ گفتگو کرنے کی جرات کر لیتی تھی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں جب کچھ دیا جائے ، تو تم شکر گزار نہیں ہوتی ہو اور جب تمہیں آزمائش کا شکار کیا جائے ، تو تم صبر نہیں کرتی ہو اور جب تمہیں کچھ نہ دیا جائے ، تو تم شکوہ کرتی ہو ، تو تم نعمت دینے والوں کی ناشکری سے بچ کے رہنا میں نے عرض کی : نعمت دینے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک عورت کسی شخص کے پاس ہوتی ہے ( یعنی کسی کی بیوی ہوتی ہے ) وہ اس شخص کے دو یا تین بچوں کو جنم بھی دیدیتی ہے پھر بھی یہ کہتی ہے کہ میں نے کبھی بھی تمہاری طرف سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔