مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ . باب: عورت پر شوہر کے حق کا بیان
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ تُحَدِّثُ زَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ فَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَيْهِنَّ بِالسَّلَامِ فَقَالَ : " إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنْعِمِينَ " قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعُوذُ بِاللَّهِ - يَا نَبِيَّ اللَّهِ - مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ . قَالَ : " بَلَى إِنَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا وَيَطُولُ تَعْنِيسُهَا ، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْبَعْلَ وَيُفِيدُهَا الْوَلَدَ وَقُرَّةَ الْعَيْنِ ، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا رَأَتْ مِنْهُ سَاعَةَ خَيْرٍ قَطُّ فَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ وَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ الْمُنْعِمِينَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : السَّلَامَ عَلَى النِّسَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک دن مسجد میں سے ہوا تو اس وقت کچھ خواتین وہاں بیٹھی ہوئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے انہیں اشارہ کر کے سلام کیا اور ارشاد فرمایا تم نعمت دینے والوں کی ناشکری کرنے سے بچنا ان خواتین میں سے ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اے اللہ کے نبی ! میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری سے ( پناہ مانگتی ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم میں سے کوئی ایک عورت ایک طویل عرصے تک بیوہ ( یا طلاق یافتہ ) رہتی ہے یہاں تک کہ ( شوہر کے بغیر ) اس کا رہنا طویل ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے شوہر عطا کرتا ہے اسے اولاد نصیب کرتا ہے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرتا ہے پھر وہ عورت غصے میں آتی ہے ، اور اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر کہتی ہے کہ اس نے اس شوہر کی طرف سے کبھی بھلائی کا ایک لمحہ بھی نہیں پایا تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری میں شامل ہے ، اور یہ نعمت دینے والوں کی ناشکری میں شامل ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے ” آپ نے خواتین کو سلام کیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔