حدیث نمبر: 7659
وَعَنْ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ : بَايَعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَتْ : فَكَانَ مِمَّا أَخَذَ عَلَيْنَا : " أَنْ لَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ " قَالَتْ : فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قُلْنَا : وَاللَّهِ لَوْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا ؟ قَالَتْ : فَرَجَعْنَا فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ : " أَنْ تُحَابِينَ أَوْ تَهَادِينَ بِمَالِهِ غَيْرَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انصار کی کچھ خواتین سمیت میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جو عہد لیا تھا اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ تم اپنے شوہروں کے ساتھ دھوکہ نہیں کرو گی وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب ہم واپس آ گئیں ، تو ہم نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر ہم اللہ کے رسول سے یہ دریافت کر لیتیں کہ شوہروں کو دھوکہ دینے سے مراد کیا ہے ؟ ( تو یہ مناسب ہونا تھا ) وہ خاتون کہتی ہیں : ہم واپس گئیں اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اس کے مال میں سے کسی کو کوئی چیز تحفے یا ہدیہ کے طور پر دو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7659
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7070) اخرجه احمد فى المسند (422/6)»