حدیث نمبر: 7626
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسْتَقِيمُ لَكَ الْمَرْأَةُ عَلَى خَلِيقَةٍ وَاحِدَةٍ إِنَّمَا هِيَ كَالضِّلَعِ إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا ، وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا ، وَفِيهَا عِوَجٌ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَهُشَيْمٌ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت تمہارے لئے کسی صورت میں سیدھی نہیں ہو سکتی یہ پسلی کی مانند ہے اگر تم اسے ٹھیک کرنا چاہو گے ، تو تم اسے ، توڑ دو گے ، اور اگر تم اسے یوں چھوڑ دو گے ، تو اس کے ذریعے نفع حاصل کرو گے ، جب کہ اس کے اندر ٹیڑھا پن موجود ہو “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اسے توڑنے سے مراد اسے طلاق دینا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، جسے دحیم اور ہشیم نے ثقہ قرار دیا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7626
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف