حدیث نمبر: 7625
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ ، وَإِنَّكَ إِنْ تُرِدْ إِقَامَةَ الضِّلَعِ تَكْسِرْهُ فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَسُمِّي الرَّجُلُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَسَاتِيرُ وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْ . ¤
محمد محی الدین

ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کو بصرہ میں خطبہ دینے کے دوران یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اگر تم پہلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے ، توڑ دو گے ، تو تم اس کا خیال رکھو ، ( اسی طرح ) تم اس کے ساتھ رہ پاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ان میں سے ایک کا نام ابورجاء عطاردی بیان کیا گیا ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں اور ایسے راوی جن کی شناخت نہیں ہو سکی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7625
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1477 و 1476) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6992) اخرجه احمد في المسند (8/5)»