حدیث نمبر: 7627
وَعَنْ شَيْخٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : جَاءَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَشْكُو إِلَى عُمَرَ مَا يَلْقَى مِنَ النِّسَاءِ فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّا لَنَجِدُ ذَلِكَ حَتَّى إِنِّي لَأُرِيدُ الْحَاجَةَ تَقُولُ : تَذْهَبْ إِلَى فَتَيَاتِ بَنِي فُلَانٍ تَنْظُرْ إِلَيْهِنَّ . فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عِنْدَ ذَلِكَ : أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ شَكَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذَرَأَ خُلُقِ سَارَةَ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّمَا خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ فَالْبَسْهَا عَلَى مَا كَانَ فِيهَا مَا لَمْ تَرَ عَلَيْهَا خِزْيَةً فِي دِينِهَا فَقَالَ عُمَرُ : لَقَدْ حُشِيَ بَيْنَ أَضْلَاعِكَ عِلْمٌ كَثِيرٌ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوِيَانِ لَمْ يُسَمَّيَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ایک بزرگ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی کہ خواتین کی طرف سے انہیں ( ناگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ صورت حال تو ہم بھی پاتے ہیں بعض اوقات میں کسی کام کے سلسلے میں نکلنے لگتا ہوں تو وہ عورت ( یعنی میری بیوی ) یہ کہتی ہے : آپ بنوفلاں کی لڑکیاں دیکھنے کے لئے جا رہے ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر ان سے کہا: کیا آپ تک یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ سیدنا ابراہیم نے اللہ تعالیٰ سے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے مزاج کی تیزی کی شکایت کی ، تو ان سے کہا: گیا کہ اسے پسلی سے پیدا کیا گیا ہے ، تو تم اس کی اس چیز سمیت اس کے ساتھ گزارہ کرو جب تک اس کے دین کے بارے میں تمہیں کوئی غلط چیز نظر نہیں آتی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری پسلیوں کے درمیان بہت زیادہ علم بھرا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں جن کے نام بیان نہیں کیے گئے ہیں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7627
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9685)»