مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ . باب: شوہر پر عورت کے حق کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ امْرَأَةً جَمِيلَةً عَطِرَةً تُحِبُّ اللِّبَاسَ وَالْهَيْئَةَ لِزَوْجِهَا فَرَأَتْهَا عَائِشَةُ وَهِيَ تَفِلَةٌ فَقَالَتْ : مَا حَالُكِ هَذِهِ ؟ فَقَالَتْ : إِنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَدْ تَخَلَّوْا لِلْعِبَادَةِ وَامْتَنَعُوا مِنَ النِّسَاءِ وَأَكْلِ اللَّحْمِ وَصَامُوا النَّهَارَ وَقَامُوا اللَّيْلَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُرِيَهُ مِنْ حَالِي مَا يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدِي لَمَّا تَخَلَّى لَهُ . فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعْلَهُ فَحَمَلَهَا بِالسَّبَّابَةِ مِنْ أُصْبُعِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَيْهِمْ جَمِيعًا حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَسَأَلَهُمْ عَنْ حَالِهِمْ قَالُوا : أَرَدْنَا الْخَيْرَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي إِنَّمَا بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ ، وَلَمْ أُبْعَثْ بِالرَّهْبَانِيَّةِ الْبِدْعَةِ ، أَلَا وَإِنَّ أَقْوَامًا ابْتَدَعُوا الرَّهْبَانِيَّةَ فَكُتِبَتْ عَلَيْهِمْ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا أَلَا فَكُلُوا اللَّحْمَ وَائْتُوا النِّسَاءَ وَصُومُوا وَأَفْطِرُوا وَصَلُّوا وَنَامُوا ، فَإِنِّي بِذَلِكَ أُمِرْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي الْعِلْمِ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خوبصورت عورت تھیں وہ عطر لگاتی تھیں وہ اپنے شوہر کے لئے عمدہ لباس اور تیار ہونے کو پسند کرتی تھیں ، ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں دیکھا کہ ان کی حالت خراب ہے ، تو دریافت کیا : آپ کی یہ حالت کیوں ہو گئی انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب جن میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ شامل ہیں ان حضرات نے عبادت کے لئے تخلیہ اختیار کر لیا ہے عورتوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے گوشت کھانا چھوڑ دیا ہے یہ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو نفل پڑھتے رہتے ہیں ، تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں انہیں وہ حالت دکھاؤں کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دیں جس کے لئے انہوں نے خلوت اختیار کی ہے ، اور میری طرف آ جائیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتا پہنا آپ نے شہادت کی انگلی اور دوسری انگلی کے ذریعے اسے اٹھایا اور پھر تیزی سے ان افراد کی طرف چلے گئے آپ ان حضرات کے پاس تشریف لے گئے ان سے ان کی حالت کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے عرض کی : ہم نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے نرم اور سیدھے دین کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے مجھے نو ایجاد شدہ رہبانیت کے ہمراہ مبعوث نہیں کیا گیا ہے کچھ لوگوں نے رہبانیت کو ایجاد کیا تھا وہ ان پر لازم قرار دیدی گئی ، تو انہوں نے پھر اس کا اس طرح خیال نہیں رکھا جو اس کا خیال رکھنا چاہیے تھا خبردار تم لوگ گوشت کھاؤ عورتوں کے پاس جاؤ ( نفلی ) روزہ رکھو اور چھوڑ بھی دو اور ( نفل ) نماز پڑھو اور سو بھی جایا کرو مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے علم سے متعلق باب میں اس روایت کی ایک سند گزر چکی ہے ۔