حدیث نمبر: 7614
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالنِّسَاءِ خَيْرًا إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالنِّسَاءِ خَيْرًا ، فَإِنَّهُنَّ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَمَا تُعَلِّقُ يَدَاهَا الْخَيْطَ فَمَا يَرْغَبُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ صَاحِبِهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ : " إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ يَحْيَى بْنَ جَابِرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْمِقْدَامِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں خواتین کے بارے میں بھلائی کا حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں خواتین کے بارے میں بھلائی کا حکم دیا ہے وہ تمہاری مائیں ہیں تمہاری بیٹیاں ہیں تمہاری خالائیں ہیں ، اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ایک عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے ، اس عورت کے ہاتھ دھاگے سے متعلق نہیں ہوتے ، لیکن ان دونوں ( میاں بیوی ) میں سے کوئی بھی دوسرے سے بے رغبت نہیں ہوتا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے ان کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں کے بارے میں حکم دیا ہے “ ۔ اس میں صرف یہ الفاظ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم یحیی بن جابر نے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7614
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (274/20)»