مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ . باب: شوہر پر عورت کے حق کا بیان
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْنَهَا سَيِّئَةَ الْهَيْأَةِ فَقُلْنَ لَهَا : مَا لَكِ ؟ مَا فِي قُرَيْشٍ رَجُلٌ أَغْنَى مِنْ بَعْلِكِ ؟ قَالَتْ : مَا لَنَا مِنْهُ مِنْ شَيْءٍ أَمَّا نَهَارُهُ فَصَائِمٌ وَأَمَّا لَيْلُهُ فَقَائِمٌ . فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْنَ ذَلِكَ لَهُ . قَالَ : فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ أَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ ؟ " قَالَ : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . فَقَالَ : " أَمَا أَنْتَ فَتَقُومُ بِاللَّيْلِ وَتَصُومُ بِالنَّهَارِ ،وَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصَلِّ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ " قَالَ : فَأَتَتْهُمُ الْمَرْأَةُ بَعْدَ ذَلِكَ عَطِرَةً كَأَنَّهَا عَرُوسٌ فَقُلْنَ لَهَا : مَهْ . قَالَتْ : أَصَابَنَا مَا أَصَابَ النَّاسَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَبَعْضُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس آئیں ان ازواج نے انہیں دیکھا کہ ان کی حالت خراب ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا ، تمہیں کیا ہوا ہے قریش میں کوئی بھی شخص تمہارے شوہر سے زیادہ خوشحال نہیں ہے اس خاتون نے کہا: میرا ان کے ساتھ کوئی واسطہ ہی نہیں ہے وہ دن کے وقت روزہ رکھ لیتے ہیں اور رات کے وقت نفل پڑھتے رہتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، تو ازواج نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، تو آپ نے فرمایا : اے عثمان ! کیا تمہارے لئے میرے طریقے میں نمونہ نہیں ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہوا ہے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رات کو نفل پڑھتے رہتے ہو دن کو روزہ رکھ لیتے ہو ؟ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تم نماز بھی پڑھا کرو اور سو بھی جایا کرو روزہ بھی رکھا کرو اور روزہ ترک بھی کر دیا کرو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد وہ خاتون ان ازواج کے پاس آئیں ، تو انہوں نے عطر لگایا ہوا تھا یوں جیسے وہ دلہن ہوں ان ازواج نے ان سے دریافت کیا : اب کیا ہوا ہے ، تو انہوں نے بتایا ہمیں بھی وہ چیز نصیب ہوئی ہے جو لوگوں کو ملتی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی بعض اسانید کے رجال ثقہ ہیں ۔