مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ . باب: شوہر پر عورت کے حق کا بیان
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَحْمَدَ : " إِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا إِنَّ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَحْفَظَكُمْ لِحُدُودِهِ لَأَنَا " .
ایک روایت جو امام أحمد سے منقول ہے اس میں یہ الفاظ ہیں : رہبانیت ہم پر لازم قرار نہیں دی گئی ہے تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والا ” میں “ ہوں“ ۔
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ : عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ تَخْتَضِبُ وَتَطَيَّبُ فَتَرَكَتْهُ فَدَخَلَتْ عَلَيَّ فَقُلْتُ لَهَا : أَمُشْهِدٌ أَمْ مُغِيبٌ ؟ فَقَالَتْ : مُشْهِدٌ كَمُغِيبٍ . فَقُلْتُ لَهَا : مَا لَكِ ؟ فَقَالَتْ : عُثْمَانُ لَا يُرِيدُ الدُّنْيَا ، وَلَا يُرِيدُ النِّسَاءَ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَقِيَ عُثْمَانَ فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَأُسْوَةٌ مَا لَكَ بِنَا ؟ " .
وَأَسَانِيدُ أَحْمَدَ رِجَالُهَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ طَرِيقَ " إِنَّ أَخْشَاكُمْ " أَسْنَدَهَا أَحْمَدُ وَوَصَلَهَا الْبَزَّارُ بِرِجَالٍ ثِقَاتٍ .
مسندِ أحمد کی ایک روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، وہ بیان کرتی ہیں کہ : سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (خُولہ بنتِ حکیم) خضاب (مہندی) لگایا کرتی تھیں اور خوشبو استعمال کیا کرتی تھیں ، پھر انہوں نے یہ سب چھوڑ دیا ۔ چنانچہ وہ میرے پاس آئیں تو میں نے ان سے پوچھا: (کیا تمہارا شوہر) گھر پر موجود ہے یا سفر میں (غائب) ہے ؟ انہوں نے کہا: وہ موجود ہو کر بھی غائب ہی کی طرح ہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا: عثمان نہ دنیا کی خواہش رکھتے ہیں اور نہ عورتوں میں رغبت رکھتے ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا : ” اے عثمان ! کیا تم اس بات پر ایمان رکھتے ہو جس پر ہم ایمان لاتے ہیں ؟ “ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر تمہارے لیے ہمارے طریقہِ کار میں اسوہ (پیروی) کیوں نہیں ہے ؟ “ ۔
امام أحمد کی اسناد کے تمام راوی ثقہ ہیں ، سوائے اس کے کہ ” «إِنَّ أَخْشَاكُمْ» “ یعنی تم میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے والی سند کو امام أحمد نے مسند کیا ہے اور امام بزار نے اسے ثقہ راویوں کے ساتھ موصولاً روایت کیا ہے ۔