مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ . باب: شوہر پر عورت کے حق کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةِ ، وَكَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ : فَرَأَى بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا فَقَالَ لِي : " يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةِ خُوَيْلَةَ " قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا . قَالَتْ : فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي ؟ " قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ ! قَالَ : " فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ ، فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ " . ¤ قُلْتُ رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ إِنَّ لَكَ فِيَّ أُسْوَةً إِنَّ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَحْفَظَكُمْ لِحُدُودِهِ لَأَنَا " . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : خویلہ بنت حکیم بن امیہ بن حارثہ بن اوقص سلمیہ میرے ہاں آئیں وہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حالت کو خراب دیکھا تو مجھ سے کہا: اے عائشہ ! خویلہ کی حالت کیوں خراب ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک ایسی عورت ہیں جس کا شوہر دن کے وقت روزہ رکھ لیتا ہے ، اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے ، تو یہ اس طرح ہی ہے جس طرح اس کا شوہر ہے اس نے اپنے آپ کو چھوڑ دیا ہے ، اور خود کو ضائع کر رہی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا وہ آپ کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عثمان ! کیا تم میری سنت سے منہ موڑ رہے ہو اس نے عرض کی : جی نہیں اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں ، تو آپ کی سنت کی پیروی کرنا چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر میں ( رات کے وقت ) سو بھی جاتا ہوں ، اور نفل بھی پڑھتا ہوں ، اور میں ( دن کے وقت ، نفلی ) روزہ رکھ بھی لیتا ہوں ، اور چھوڑ بھی دیتا ہوں ، اور میں نے عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کیا ہوا ہے اے عثمان تم اللہ سے ڈرو تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے تمہاری جان کا تم پر حق ہے تم ( نفلی ) روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو اور تم ( رات کے وقت ) نفل پڑھ بھی لیا کرو اور سو بھی جایا کرو ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتاہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عثمان ! تمہارے لئے میرے طریقے میں بہترین نمونہ ہے میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور اس کی حدود کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والا میں ہوں “ ۔