مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَزْلِ . باب: عزل کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ زَائِدَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الطَّائِيِّ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : كَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِيهِ شَيْئًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَإِلَّا فَإِنِّي أَقُولُ فِيهِ : ( نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ) مَنْ شَاءَ عَزَلَ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا زَائِدَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤زائدہ بن عمیر طائی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : عزل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ایک بات کہی تھی اور وہ ویسا ہی ہے جس طرح آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ویسے میری اپنی ذات رائے یہ ہے کہ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ “ ۔ تو جو شخص چاہے وہ عزل کر لے اور جو شخص چاہے اسے ترک کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف زائدہ بن عمیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔