حدیث نمبر: 7573
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ الْمَاءَ الَّذِي يَكُونُ مِنْهُ الْوَلَدُ أَهْرَقْتَهُ عَلَى صَخْرَةٍ لَأَخْرَجَ اللَّهُ مِنْهَا وَلَدًا - أَوْ لَخَرَجَ مِنْهَا - وَلَيَخْلُقَنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَفْسًا هُوَ خَالِقُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عزل کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نطفے سے بچے نے پیدا ہونا ہے اگر اسے کسی چٹان پر ڈال دیا جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس میں سے بھی بچے کو نکال دے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس میں سے بھی بچہ نکل آئے گا اللہ تعالیٰ نے جس جان کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر ہی دے گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 7574
وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ عَزَلَ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْأَنْصَارِ يَعْزِلُونَ . فَفَزِعَ وَقَالَ : " إِنِ النَّفْسَ الْمَخْلُوقَةَ كَائِنَةٌ فَلَا آمُرُ ، وَلَا أَنْهَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْحَنَفِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جن لوگوں نے سب سے پہلے عزل کا آغاز کیا وہ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ عزل کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہو گئے آپ نے ارشاد فرمایا : جس جان نے پیدا ہونا ہے اس نے پیدا ہو کے رہنا ہے ، تو میں نہ اس کا حکم دیتا ہوں ، اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان حنفی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان حنفی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 7575
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ النُّطْفَةَ الَّتِي أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهَا الْمِيثَاقَ أُلْقِيَتْ عَلَى صَخْرَةٍ لَخَلَقَ اللَّهُ مِنْهَا إِنْسَانًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جس نطفے سے اللہ تعالیٰ نے میثاق لیا ہے اگر اسے کسی چٹان پر ڈالا جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس میں سے بھی انسان کو پیدا کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 7576
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فِي الْعَزْلِ فَسَمِعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَهُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " أَوْلَمَ تَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَخْلُقْ نَسَمَةً هُوَ بَارِئُهَا إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگ عزل کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات چیت سنی آپ ان کے پاس تشریف لائے ، اور آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جس بھی جان کو پیدا کرنا ہے وہ پیدا ہو کے رہے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ جمہور کے نزدیک متروک ہے یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ جمہور کے نزدیک متروک ہے یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7577
وَعَنْ صِرْمَةَ الْعُذْرِيِّ قَالَ : غَزَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي سُلَيْمٍ فَأَصَبْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ فَأَرْغَبْنَا فِي الْبَيْعِ ، وَقَدِ اشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزُوبَةُ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : مَا يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَصْنَعَ هَذَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَظْهُرِنَا حَتَّى نَسْأَلَهُ . فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اعْزِلُوا أَوْ لَا تَعْزِلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ مِنْ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صرمہ عذری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنوسلیم سے جنگ کے لئے تشریف لے گئے ہمیں عرب کی معزز عورتیں ملیں ہمیں ان کی فروخت میں بھی دلچسپی تھی اور ہم اکیلے رہ کے بھی تنگ آ گئے تھے ، تو ہم نے یہ ارادہ کیا کہ ہم ان کے ساتھ صحبت کر لیتے ہیں اور عزل کر لیں گے ہم میں سے کسی ایک نے یہ کہا: ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں ہمیں پہلے آپ سے پوچھ لینا چاہیے ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ عزل کرو یا نہ کرو قیامت کے دن تک کے لئے اللہ تعالیٰ نے جس جان کے بارے میں طے کر دیا ہے کہ اس نے پیدا ہونا ہے ، تو وہ ( پیدا ) ہو کے رہے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7578
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفَرٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ سَبَايَا ، وَإِنَّا لَنَعْزِلُ عَنْهُنَّ ؟ قَالَ : " وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " مَا مِنْ نَسَمَةٍ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ صُلْبِ رَجُلٍ إِلَّا وَهِيَ خَارِجَةٌ إِنْ شَاءَ ، وَإِنْ أَبَى فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو سلیم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں قیدی عورتیں ملی ہیں ہم ان کے ساتھ عزل کر لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ایسا کرتے ہو ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس بھی جان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہو کہ وہ کسی شخص کی پشت سے نکلے گی ، تو اگر اللہ نے چاہا تو وہ نکل کے رہے گی اگر تم نہیں مانتے ، تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7579
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَوْ أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ عَلَى نَسَمَةٍ فِي صُلْبِ رَجُلٍ ، ثُمَّ أَخْرَجَهُ عَلَى الصَّفَا لَأَخْرَجَهُ مِنْ ذَلِكَ الصَّفَا ، فَإِنْ شِئْتَ فَأَتِمَّ ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَعْزِلْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَجُلٌ ضَعِيفٌ لَمْ أُسَمِّهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کی پشت میں کسی جان سے میثاق لے لیا ہے پھر اگر آدمی اس نطفے کو چٹان پر ڈال دے ، تو اللہ تعالیٰ اس چٹان میں سے بھی اس کو پیدا کر دے گا اب اگر تم چاہو ، تو مکمل کر لو اور اگر چاہو ، تو تم عزل نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک ضعیف راوی ہے جس کا نام میں نے بیان نہیں کیا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک ضعیف راوی ہے جس کا نام میں نے بیان نہیں کیا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7580
وَعَنْ زَائِدَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الطَّائِيِّ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : كَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِيهِ شَيْئًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَإِلَّا فَإِنِّي أَقُولُ فِيهِ : ( نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ) مَنْ شَاءَ عَزَلَ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا زَائِدَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
زائدہ بن عمیر طائی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : عزل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ایک بات کہی تھی اور وہ ویسا ہی ہے جس طرح آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ویسے میری اپنی ذات رائے یہ ہے کہ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ “ ۔ تو جو شخص چاہے وہ عزل کر لے اور جو شخص چاہے اسے ترک کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف زائدہ بن عمیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف زائدہ بن عمیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 7581
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ الْيَهُودَ كَانَتْ تَقُولُ : إِنَّ الْعَزْلَ هُوَ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى . فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كَذَبَتْ يَهُودُ لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقًا لَمْ يَمْنَعْهُ - أَحْسَبُهُ قَالَ - شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا إِسْمَاعِيلَ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہودیہ کہتے تھے کہ عزل چھوٹی قسم کا زندہ درگور کرنا ہے اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہودی غلط کہتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا ہو ، تو اسے کوئی چیز نہیں روک سکتی ۔ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسماعیل بن مسعود کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسماعیل بن مسعود کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 7582
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ الْيَهُودَ يَقُولُونَ : إِنَّ الْعَزْلَ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى ؟ فَقَالَ : " كَذَبَتْ يَهُودُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ ضُعِّفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یہودی یہ کہتے ہیں : کہ عزل چھوٹی قسم کا زندہ درگور کرتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہودی غلط کہتے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن وردان ہے ، اور وہ ثقہ ہے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن وردان ہے ، اور وہ ثقہ ہے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7583
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ فِي الْعَزْلِ : هُوَ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى الْخَفِيَّةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَجَعَ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے عزل کے بارے میں یہ فرمایا ہے : یہ پوشیدہ قسم کا چھوٹا زندہ درگور کرنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس موقف سے رجوع کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس موقف سے رجوع کر لیا تھا ۔
حدیث نمبر: 7584
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخِدْرِي قَالَ : كَانَ عُمَرُ وَابْنُ عُمَرَ يَكْرَهَانِ الْعَزْلَ ، وَكَانَ زَيْدٌ وَابْنُ مَسْعُودٍ يَعْزِلَانِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ فِي الْعَزْلِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عزل کو مکروہ قرار دیتے تھے جبکہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عزل کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول عزل کے بارے میں حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول عزل کے بارے میں حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7585
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَا خَلُصْتُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَّا بِقَيْنَةٍ أُرِيدُ بِهَا السُّوقَ ، وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا ؟ قَالَ : " جَاءَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : مشرکین میں سے مجھے ( مال غنیمت کے حصے میں ) صرف ایک لڑکی ملی ہے ، جسے میں بازار میں فروخت کرنا چاہتا ہوں ، کیا میں اس سے عزل کر لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے پاس وہ چیز آ جائے گی جو اس کے نصیب میں لکھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 7586
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ يَعْزِلُ عَنْهَا ، وَكَانَتْ سُرِّيَّتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعَلِيٌّ وَجَدَّتُهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
علی بن حسن نامی صاحب اپنی دادی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ اس خاتون کے ساتھ عزل کر لیتے تھے ( راوی کہتے ہیں : ) وہ خاتون سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی کنیز تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ علی نامی راوی اور اس کی دادی ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ علی نامی راوی اور اس کی دادی ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔