مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَاللَّهْوِ وَالنِّثَارِ . باب: نکاح کا اعلان کرنا ، شادی کا گانا ( کھانے کی چیز ) نچھاور کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَبَّارٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : زَوَّجَ هَبَّارٌ ابْنَتَهُ فَضُرِبَ فِي عُرْسِهَا بِالْكِيرِ وَالْغِرْبَالِ فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : زَوَّجَ هَبَّارٌ ابْنَتَهُ فَضُرِبَ فِي عُرْسِهَا بِالْكِيرِ وَالْغِرْبَالِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشِيدُوا النِّكَاحَ أَشِيدُوا النِّكَاحَ هَذَا نِكَاحٌ لَا سِفَاحٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤عبداللہ بن ہبار ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا ہبار رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی کی شادی کی ، تو ان کی شادی میں ” کیر “ ( مخصوص آلہ ) اور ” غربال “ ( دف نما ایک برتن ) بجایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز سنی ، تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا : ہبار نے اپنی صاحبزادی کی شادی کی ہے ، تو اس کی شادی میں ” کیا “ ( مخصوص آلہ ) اور ” غربال “ ( دف نما ایک برتن ) بجایا جا رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نکاح پر گانا گاؤ ! نکاح پر گانا گاؤ ! یہ نکاح ہے ، کوئی پوشید تعلق نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔