مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَاللَّهْوِ وَالنِّثَارِ . باب: نکاح کا اعلان کرنا ، شادی کا گانا ( کھانے کی چیز ) نچھاور کرنا
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَوَارٍ يَتَغَنَّيْنَ يَقُلْنَ : فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ . فَوَقَفَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ دَعَاهُنَّ فَقَالَ : " لَا تَقُلْنَ هَكَذَا ، وَلَكِنْ قُولُوا : حَيَّانَا وَإِيَّاكُمْ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُرَخِّصُ لِلنَّاسِ فِي هَذَا ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ إِنَّهُ نِكَاحٌ لَا سِفَاحٌ أَشِيدُوا بِالنِّكَاحِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کچھ لڑکیوں سے ہوئی جو گانا گا رہی تھیں اور یہ گا رہی تھیں : تم ہمیں خوش آمدید کہو ہم تمہیں خوش آمدید کہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہر گئے آپ نے انہیں بلایا اور فرمایا تم یہ نہ کہو بلکہ تم یہ کہو کہ انہوں نے ہمیں اور تمہیں خوش آمدید کہا: ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ لوگوں کو اس کی اجازت دیتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں یہ نکاح ہے کوئی پوشیدہ عمل نہیں ہے تم نکاح پر گانا گاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اسے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق ثقہ قرار دیا ہے ۔