کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نکاح کا اعلان کرنا ، شادی کا گانا ( کھانے کی چیز ) نچھاور کرنا
حدیث نمبر: 7533
عَنْ أَبِي حَسَنٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِدُفٍّ وَيُقَالَ : " أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ ابْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے ( آپ کو یہ پسند تھا کہ نکاح کے موقعہ پر ) دف بجائی جائے ، اور یہ گایا جائے : ہم تمہارے پاس آئے ہیں ہم تمہارے پاس آئے تم ہمیں خوش آمدید کہو اور ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7533
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (77/4)»
حدیث نمبر: 7534
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَعْلِنُوا النِّكَاحَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نکاح کا اعلان کرو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7534
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1433) اخرجه احمد فى المسند (5/4)»
حدیث نمبر: 7535
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَائِشَةَ : " أَهْدَيْتُمُ الْجَارِيَةَ إِلَى بَيْتِهَا ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " فَهَلَّا بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغْنِيهِمْ يَقُولُ : أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ ، فَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کیا تم نے لڑکی کی اس کے گھر رخصتی کروا دی ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے ساتھ ان کو کیوں نہیں بھیجا جو ( شادی کا ) گانا گاتے اور یہ کہتے ہیں : ہم تمہارے پاس آئے ہیں تم ہمیں خوش آمدید کہو اور ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں ، انصار ایسے لوگ ہیں جنہیں گانے میں دلچسپی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7535
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخر. فى المسند (391/3)»
حدیث نمبر: 7536
وَعَنْ زَوْجِ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي لَهَبٍ فَقَالَ : " هَلْ مِنْ لَهْوٍ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَعْبَدُ بْنُ قَيْسٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ابولہب کی بیٹی کے شوہر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، جب ابولہب کی بیٹی کے ساتھ میں نے شادی کی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کوئی لہو ( شادی کا گانا ) ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معبد بن قیس ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7536
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (258/24) اخرجه احمد فى المسند (67/4)»
حدیث نمبر: 7537
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا فَعَلَتْ فُلَانَةُ ؟ " لِيَتِيمَةٍ كَانَتْ عِنْدَهَا . فَقُلْتُ : أَهْدَيْنَاهَا إِلَى زَوْجِهَا . قَالَ : " فَهَلْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا جَارِيَةً تَضْرِبُ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّي ؟ " قَالَتْ : تَقُولُ مَاذَا ؟ قَالَ : " تَقُولُ : أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ . ¤ لَوْلَا الذَّهَبُ الْأَحْمَرُ مَا حَلَّتْ بِوَادِيكُمْ . ¤ لَوْلَا الْحِنْطَةُ السَّمْرَا مَا سَمِيَتْ عَذَارِيكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : فلاں لڑکی کا کیا حال ہے ؟ وہ ایک یتیم لڑکی تھی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر پرورش تھی میں نے عرض کی : میں نے اس کی اس کے شوہر کے گھر رخصتی کروا دی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے ساتھ کسی ایسی لڑکی کو کیوں نہیں بھیجا جو دف بجاتی اور گانا گاتی سیدہ عائشہ ہی ہونا نے عرض کی : وہ کیا گاتی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ یہ گاتیں : ” ہم تمہارے پاس آئے ہیں ہم تمہارے پاس آئے ہیں تم ہمیں خوش آمدید کہو اور ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔ اگر سرخ سونا نہ ہوتا ، تو اُس نے تمہارے ہاں نہیں آنا تھا ، اور اگر صاف گندم نہ ہوتی ، تو تمہاری کنواری لڑکیوں نے صحت مند نہیں ہونا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رواد بن جراح ہے ، جسے امام أحمد یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7537
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7538
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَوَّلِ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ بِعَرُوسٍ وَمَعَهَا نِسْوَةٌ ، وَإِذَا إِحْدَاهُنَّ تَقُولُ : وَأَهْدَى لَهَا كَبْشًا تَبَحْبَحَ فِي الْمِرْبَدِ . ¤ وَزَوْجُكِ فِي الْبَادِي وَيَعْلَمُ مَا فِي غَدِ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُولِي هَكَذَا ، وَلَكِنْ قُولِي : أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو آغاز میں آپ کا گزر ایک شادی کے پاس سے ہوا جس میں خواتین موجود تھیں اور ان میں سے کوئی ایک یہ گا رہی تھی : ” اور اس شخص نے اس عورت کو ایک دنبہ تحفہ کے طور پر دیا ہے جو باڑے میں ٹھہر گیا ہے ، اور تمہارا شوہر آبادی سے باہر رہتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا“ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ نہ گاؤ ! تم یہ گاؤ : ” ہم تمہارے پاس آئے ہیں ہم تمہارے پاس آئے ہیں تم ہمیں خوش آمدید کہو اور ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7538
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
حدیث نمبر: 7539
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِنِسَاءٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي عُرْسٍ لَهُنَّ وَهُنَّ يُغَنِّينَ : وَأَهْدَى لَهَا كَبْشًا تَبَحْبَحَ فِي الْمِرْبَدِ . ¤ وَزَوْجُكِ فِي الْبَادِي وَيَعْلَمُ مَا فِي غَدِ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی کچھ خواتین کے پاس سے گزرے جو ایک شادی میں شریک تھیں اور وہ یہ گانا گا رہی تھیں : ” اس مرد نے اس عورت کو ایک دنبہ تحفے کے طور پر دیا ہے جو باڑے میں ٹھہر گیا ہے ، اور تمہارا شوہر آبادی سے باہر رہتا ہے ، اور وہ یہ جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا“ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل کیا ہو گا یہ بات صرف اللہ جانتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7539
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (343)»
حدیث نمبر: 7540
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَوَارٍ يَتَغَنَّيْنَ يَقُلْنَ : فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ . فَوَقَفَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ دَعَاهُنَّ فَقَالَ : " لَا تَقُلْنَ هَكَذَا ، وَلَكِنْ قُولُوا : حَيَّانَا وَإِيَّاكُمْ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُرَخِّصُ لِلنَّاسِ فِي هَذَا ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ إِنَّهُ نِكَاحٌ لَا سِفَاحٌ أَشِيدُوا بِالنِّكَاحِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کچھ لڑکیوں سے ہوئی جو گانا گا رہی تھیں اور یہ گا رہی تھیں : تم ہمیں خوش آمدید کہو ہم تمہیں خوش آمدید کہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہر گئے آپ نے انہیں بلایا اور فرمایا تم یہ نہ کہو بلکہ تم یہ کہو کہ انہوں نے ہمیں اور تمہیں خوش آمدید کہا: ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ لوگوں کو اس کی اجازت دیتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں یہ نکاح ہے کوئی پوشیدہ عمل نہیں ہے تم نکاح پر گانا گاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اسے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (366)»
حدیث نمبر: 7541
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَبَّارٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : زَوَّجَ هَبَّارٌ ابْنَتَهُ فَضُرِبَ فِي عُرْسِهَا بِالْكِيرِ وَالْغِرْبَالِ فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : زَوَّجَ هَبَّارٌ ابْنَتَهُ فَضُرِبَ فِي عُرْسِهَا بِالْكِيرِ وَالْغِرْبَالِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشِيدُوا النِّكَاحَ أَشِيدُوا النِّكَاحَ هَذَا نِكَاحٌ لَا سِفَاحٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ہبار ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا ہبار رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی کی شادی کی ، تو ان کی شادی میں ” کیر “ ( مخصوص آلہ ) اور ” غربال “ ( دف نما ایک برتن ) بجایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز سنی ، تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا : ہبار نے اپنی صاحبزادی کی شادی کی ہے ، تو اس کی شادی میں ” کیا “ ( مخصوص آلہ ) اور ” غربال “ ( دف نما ایک برتن ) بجایا جا رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نکاح پر گانا گاؤ ! نکاح پر گانا گاؤ ! یہ نکاح ہے ، کوئی پوشید تعلق نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7541
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (201/22)»
حدیث نمبر: 7542
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ شَهِدَ إِمْلَاكَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَأَنْكَحَ الْأَنْصَارِيَّ وَقَالَ : " عَلَى الْأُلْفَةِ وَالْخَيْرِ وَالطَّيْرِ الْمَيْمُونِ دَفِّفُوا عَلَى رَأْسِ صَاحِبِكُمْ " فَدَفَّفُوا عَلَى رَأْسِهِ وَأَقْبَلَتِ السِّلَالُ فِيهَا الْفَاكِهَةُ وَالسُّكَّرُ فَنُثِرَ عَلَيْهِمْ فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَنْتَهِبُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَزْيَنَ الْحِلْمَ أَلَا تَنْتَهِبُونَ ؟ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَنَا عَنِ النُّهْبَةِ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ! فَقَالَ : " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ نُهْبَةِ الْعَسَاكِرِ ، وَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ نُهْبَةِ الْوَلَائِمِ أَلَا فَانْتَهِبُوا " قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْبِذُهُ وَيَجْبِذُنَا إِلَى ذَلِكَ النَّهْبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَالْأُلْفَةِ وَالطَّائِرِ الْمَيْمُونِ وَالسَّعَةِ فِي الرِّزْقِ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ وَضَّاعٌ . وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ حَازِمٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَنْ لِمَازَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا ، وَلِمَازَةُ هَذَا يَرْوِي عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ مُتَأَخِّرٌ وَلَيْسَ هُوَ ابْنُ زَبَّارٍ ذَاكَ يَرْوِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْوِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی شادی میں شریک ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کا خطبہ پڑھا اور انصاری کی شادی کروا دی پھر آپ نے دعا دی : الفت ہو بھلائی ہو خیر آئے ( پھر آپ نے فرمایا : ) اپنے ساتھی کے سر پر دف بجاؤ لوگوں نے اس کے سرہانے دف بجائی پھر کچھ ٹوکرے آئے جن میں پھل اور میٹھی چیزیں تھیں ، وہ لوگوں کے سامنے رکھی گئیں لیکن لوگ اس سے رک گئے انہوں نے ان کو لوٹا نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بردباری اچھی چیز ہے ، لیکن تم لوگ لوٹتے کیوں نہیں ہو ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں فلاں ، فلاں دن لوٹنے سے منع کیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہیں جنگ میں لوٹنے سے منع کیا تھا ولیمے میں لوٹنے سے منع نہیں کیا تھا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کو کھینچ رہے تھے اور لوگ بھی اس کو کھینچ رہے تھے اس طرح وہ چھین رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ تا ہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ” بھلائی ہو برکت ہو الفت ہو نیک نصیب ہو رزق میں گنجائش ہو اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے “ ۔ معجم اوسط کی سند میں ایک راوی بشر بن ابراہیم ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے معجم کبیر کی سند میں ایک راوی حازم ہے جو بنو ہاشم کا غلام ہے اس نے لمازہ سے روایت نقل کی ہے ۔ میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے لمازہ نامی اس راوی نے ثور بن یزید سے روایت نقل کی ہے ۔ اور یہ بعد کے زمانے کا ہے یہ ابن زبار نہیں ہے ، کیونکہ وہ ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور ان جیسے افراد سے روایت نقل کرتا ہے معجم کبیر کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7542
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (118) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (97/20)»