حدیث نمبر: 7542
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ شَهِدَ إِمْلَاكَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَأَنْكَحَ الْأَنْصَارِيَّ وَقَالَ : " عَلَى الْأُلْفَةِ وَالْخَيْرِ وَالطَّيْرِ الْمَيْمُونِ دَفِّفُوا عَلَى رَأْسِ صَاحِبِكُمْ " فَدَفَّفُوا عَلَى رَأْسِهِ وَأَقْبَلَتِ السِّلَالُ فِيهَا الْفَاكِهَةُ وَالسُّكَّرُ فَنُثِرَ عَلَيْهِمْ فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَنْتَهِبُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَزْيَنَ الْحِلْمَ أَلَا تَنْتَهِبُونَ ؟ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَنَا عَنِ النُّهْبَةِ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ! فَقَالَ : " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ نُهْبَةِ الْعَسَاكِرِ ، وَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ نُهْبَةِ الْوَلَائِمِ أَلَا فَانْتَهِبُوا " قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْبِذُهُ وَيَجْبِذُنَا إِلَى ذَلِكَ النَّهْبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَالْأُلْفَةِ وَالطَّائِرِ الْمَيْمُونِ وَالسَّعَةِ فِي الرِّزْقِ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ وَضَّاعٌ . وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ حَازِمٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَنْ لِمَازَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا ، وَلِمَازَةُ هَذَا يَرْوِي عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ مُتَأَخِّرٌ وَلَيْسَ هُوَ ابْنُ زَبَّارٍ ذَاكَ يَرْوِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْوِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی شادی میں شریک ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کا خطبہ پڑھا اور انصاری کی شادی کروا دی پھر آپ نے دعا دی : الفت ہو بھلائی ہو خیر آئے ( پھر آپ نے فرمایا : ) اپنے ساتھی کے سر پر دف بجاؤ لوگوں نے اس کے سرہانے دف بجائی پھر کچھ ٹوکرے آئے جن میں پھل اور میٹھی چیزیں تھیں ، وہ لوگوں کے سامنے رکھی گئیں لیکن لوگ اس سے رک گئے انہوں نے ان کو لوٹا نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بردباری اچھی چیز ہے ، لیکن تم لوگ لوٹتے کیوں نہیں ہو ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں فلاں ، فلاں دن لوٹنے سے منع کیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہیں جنگ میں لوٹنے سے منع کیا تھا ولیمے میں لوٹنے سے منع نہیں کیا تھا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کو کھینچ رہے تھے اور لوگ بھی اس کو کھینچ رہے تھے اس طرح وہ چھین رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ تا ہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ” بھلائی ہو برکت ہو الفت ہو نیک نصیب ہو رزق میں گنجائش ہو اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے “ ۔ معجم اوسط کی سند میں ایک راوی بشر بن ابراہیم ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے معجم کبیر کی سند میں ایک راوی حازم ہے جو بنو ہاشم کا غلام ہے اس نے لمازہ سے روایت نقل کی ہے ۔ میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے لمازہ نامی اس راوی نے ثور بن یزید سے روایت نقل کی ہے ۔ اور یہ بعد کے زمانے کا ہے یہ ابن زبار نہیں ہے ، کیونکہ وہ ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور ان جیسے افراد سے روایت نقل کرتا ہے معجم کبیر کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7542
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (118) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (97/20)»