مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي النِّكَاحِ بِغَيْرِ شُهُودٍ . باب: گواہوں کے بغیر نکاح کا بیان
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ وَلَقِيتُهُ ، وَكَلَّمْتُهُ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : " نُوَيْبِتَةٌ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَمْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ ؟ قَالَ : " لَا بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتُ مَعَ عَمٍّ لِي فِي سَفَرٍ فَأَدْرَكَهُ الْحَفَاءُ فَقَالَ : أَعِرْنِي حِذَاءَكَ فَقُلْتُ : لَا أُعِيرُكَهَا أَوْ تُزَوِّجُنِي ابْنَتَكَ قَالَ : قَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَلَمَّا أَتَيْنَا أَهْلَنَا بَعَثَ إِلَيَّ بِحِذَائِي وَقَالَ : لَا امْرَأَةَ لَكَ عِنْدَنَا . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ فِي اللُّقَطَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤عروہ بن رویم لخمی ، سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : میں نے ان سے ملاقات بھی کی ہے اور ان سے بات چیت بھی کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ سے سوال کیا ، تو آپ نے فرمایا : چھوٹا معاملہ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھلائی کا چھوٹا معاملہ یا خرابی کا چھوٹا معاملہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ بھلائی کا چھوٹا معاملہ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ میں سفر پر اپنے چچا کے ساتھ روانہ ہوا ، انہیں جوتوں کی ضرورت پیش آئی ، تو انہوں نے مجھے کہا: تم جو تے عاریت کے طور پر مجھے دے دو ، میں نے کہا: میں یہ آپ کو عاریت کے طور پر نہیں دوں گا ، اگر آپ اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کرتے ہیں ( تو پھر دے دوں گا ) انہوں نے کہا: میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی جب ہم اپنے گھر واپس پہنچے ، تو انہوں نے مجھے میرے جوتے بھجوا دیے اور بولے : تمہاری کوئی بیوی ہمارے پاس نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے لئے اس عورت میں بھلائی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے گمشدہ چیز سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوفروہ یزید بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔