مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي النِّكَاحِ بِغَيْرِ شُهُودٍ . باب: گواہوں کے بغیر نکاح کا بیان
عَنْ كَرْدَمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَلَيَّ حِذَاءٌ ، وَلَا حِذَاءَ لَهُ فَقَالَ : أَعْطِنِي نَعْلَكَ . فَقُلْتُ : لَا إِلَّا أَنْ تُزَوِّجَنِي ابْنَتَكَ ! قَالَ : أَعْطِنِي ، فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا . فَلَمَّا انْصَرَفْنَا بَعَثَ إِلَيَّ بِنَعْلِي وَقَالَ : لَا زَوْجَةَ لَكَ عِنْدِي . فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " دَعْهَا لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْحَرَنَّ ذَوْدًا مِنْ ذَوْدِي بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ لَا نَذْرَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا کردم بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرے چچازاد جن کا نام ابوثعلبہ تھا ، ہم ایک گرم دن میں ( سفر پر ) نکلے میں نے جوتے پہنے ہوئے تھے اور ان کے پاس جوتے نہیں تھے ، انہوں نے کہا: تم اپنے جوتے مجھے دے دو ! میں نے کہا: جی نہیں ! البتہ اگر آپ اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کریں گے ( تو میں دے دوں گا ) انہوں نے کہا: تم مجھے دے دو ! میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی ، جب ہم واپس آئے ، تو انہوں نے میرے جوتے مجھے بھجوا دیے اور کہا: تمہاری کوئی بیوی ہمارے پاس نہیں ہے ، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس عورت کو چھوڑ دو ! تمہارے لئے اس میں بہتری نہیں ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایک نذر مانی تھی کہ میں فلاں ، فلاں جگہ پر اپنا اونٹ قربان کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی نذر کو پورا کر دو ! قطع رحمی کے بارے میں اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو ، اس کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔