مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَتَمَ عِلْمًا . باب: جو شخص علم کی بات چھپا لے اُس کا بیان
حدیث نمبر: 741
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَجَّمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ ، وَمَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ مَا يَعْلَمُ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَجَّمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ : فِي الْقُرْآنِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص سے علم کی کسی بات کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ اُسے چھپا لے ، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اسے آگ کی بنی ہوئی لگام ڈالی گئی ہو گی ، اور جو شخص علم نہ ہونے کے باوجود قرآن کے بارے میں کچھ کہے گا ، جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اُسے آگ سے بنی ہوئی لگام ڈالی گئی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، جو صرف قرآن کے بارے میں ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔