حدیث نمبر: 740
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَابْنَ مَسْعُودٍ ، أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " أَوْثَقُ عُرَى الْإِسْلَامِ : الْوَلَايَةُ فِي اللَّهِ ، وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " تَدْرِي أَيَّ النَّاسِ أَفْضَلَ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ أَفْضَلُهُمْ عَمَلًا إِذَا فَقِهُوا فِي دِينِهِمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أَتَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ ، وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي عَمَلِهِ ، وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ عَلَى اسْتِهِ زَحْفًا ، وَاخْتَلَفَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، نَجَا مِنْهَا ثَلَاثٌ ، وَهَلَكَ سَائِرُهُنَّ : فِرْقَةٌ أَزَّتِ الْمُلُوكَ ، فَقَاتَلُوهُمْ عَلَى دِينِهِمْ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذُوهُمْ فَقَتَلُوهُمْ وَنَشَرُوهُمْ بِالْمَنَاشِيرِ ، وَفِرْقَةٌ لَمْ يَكُنْ لَهَا طَاقَةٌ بِمُوَازَاتِ الْمُلُوكِ ، وَلَا بِأَنْ يُقِيمُوا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى دِينِ اللَّهِ وَدِينِ عِيسَى ، فَسَاحُوا فِي الْبِلَادِ وَتَرَهَّبُوا ، وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ( وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ ) الْآيَةَ " . قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَمَنْ آمَنَ بِي وَاتَّبَعَنِي وَصَدَّقَنِي فَقَدْ رَعَاهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ، وَمَنْ لَمْ يَتَّبَعْنِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَقِيلُ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! ایمان کی کون سی رسّی سب سے زیادہ مضبوط ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام کی سب سے مضبوط رسّی اللہ تعالیٰ کی خاطر دوستی رکھنا ، الله تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھنا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ جانتے ہو لوگوں میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت وہ رکھتا ہے زیادہ فضیلت والے عمل کرتا ہو ، ( یا جو عمل کے حوالے سے فضیلت رکھتا ہو ) جبکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو ( یعنی عالم ہو ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ جانتے ہو لوگوں میں سے کون زیادہ علم رکھتا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ علم وہ شخص رکھتا ہے ، جو لوگوں کے اختلاف کے وقت حق کے بارے میں سب سے زیادہ بصیرت رکھتا ہو ، اگرچہ اس کا عمل تھوڑا ہو اور خواہ وہ سرین کے بل گھسٹ کر چلتا ہو ، تم سے پہلے کے لوگ اختلاف کا شکار ہو کر 72 فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے ، جن میں سے تین گروہوں نے نجات حاصل کی تھی اور باقی سب ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے ، ایک وہ گروہ جس نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی اور اپنے دین اور سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کے دین کے حوالے سے ان لوگوں کے ساتھ جہاد کیا ، ان حکمرانوں نے انہیں پکڑ کر شہید کر دیا اور ان میں ایک گروہ وہ تھا ، جس میں حکمرانوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی اور نہ ہی وہ لوگ اُن حکمرانوں کے درمیان رہ کر دوسرے لوگوں کو اللہ کے دین اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دین کی طرف دعوت دے سکتے تھے ، تو وہ مختلف علاقوں میں سفر کرنے لگے اور انہوں نے رہبانیت اختیار کر لی ، یہی وہ لوگ ہیں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اور رہبانیت اُنہوں نے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حصول کے لیے ایجاد کی تھی ہم نے ان پر ( رہبانیت ) لازم قرار نہیں دی تھی ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص مجھ پر ایمان لائے ، میری پیروی کرے ، میری تصدیق کرے ، تو وہ اس کی اس طرح رعایت کرے گا ، جو اُس کی رعایت کا حق ہے ، اور جو شخص میری پیروی نہیں کرتا ، تو وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عقیل بن جعد ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ منکر الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 740
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 10531 اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 4479 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 223/1»