حدیث نمبر: 742
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَتَمَ عَلْمًا يَعْلَمُهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ . قَالَ : هِيَ الشَّهَادَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ يُدْعَى إِلَيْهَا أَوْ لَا يُدْعَى وَهُوَ يَعْلَمُهَا ، وَلَا يُرْشِدُ صَاحِبَهَا إِلَيْهَا ، فَهُوَ هَذَا الْعِلْمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَيُّوبَ الْفِرْسَانِيُّ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص علم کی کوئی بات چھپائے ، جس کو وہ جانتا ہو ، تو اسے قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی ۔ “ وہ فرماتے ہیں : یہ ( یعنی اس سے مراد ) گواہی ہے ، جو کسی شخص کے پاس ہوتی ہے ، اور پھر اسے اس گواہی کے لئے بلایا جاتا ہے یا بلایا نہیں جاتا ہے ، لیکن وہ اس چیز کے بارے میں علم رکھتا ہے اور پھر وہ اُس گواہی سے متعلقہ فرد کی رہنمائی اُس کی طرف نہیں کرتا ، تو یہاں اس بات کا علم ہونا مراد ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ایوب فرسانی ہے اور وہ مجہول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 742
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف