حدیث نمبر: 7403
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : ثُمَّ جَاءَتْهُ بَعْدُ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ قَدْ مَسَّهَا فَمَنَعَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ إِيمَانُهُ بِهِ أَنْ يُحِلَّهَا لِرِفَاعَةَ فَلَا تُتِمَّ لَهُ نِكَاحًا مَرَّةً أُخْرَى " . ثُمَّ أَتَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي خِلَافَتِهِمَا فَمَنَعَاهَا كِلَاهُمَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا وَقَوْلُهُ : بِنَحْوِهِ لَمْ يُذْكَرْ قَبْلَهُ مَا يُنَاسِبُهُ ، وَلَا أَدْرِي عَلَى أَيِّ شَيْءٍ عَطَفَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : پھر اس کے بعد وہ خاتون آئی اور اس نے آپ کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے مس کر لیا ہے ( یعنی اس کے ساتھ صحبت کر لی ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اس بات سے منع کر دیا کہ وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف واپس جائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! اگر تو اس کے ذریعے اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ رفاعہ کے لئے حلال ہو جائے ، تو پھر دوسری مرتبہ تو اس کے نکاح کو پورا نہ کروانا ، اس کے بعد وہ عورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ، ان حضرات کے عہد خلافت میں آئی ، لیکن ان دونوں حضرات نے اس عورت کو منع کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح نقل کی ہے ، اور ان کا یہ کہنا ان کی مانند ہے ، اس میں اس سے پہلے والی روایت کے ساتھ مناسبت کا کوئی پہلو نہیں ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کس بنیاد پر یہ عطف دیا ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7403
درجۂ حدیث محدثین: إسناده رجالُہ
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3441)»