حدیث نمبر: 7404
وَعَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : إِنَّ خَالِيَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ فَدَخَلَهُ مِنْ ذَلِكَ هَمٌّ وَأَمْرٌ وَشُقَّ عَلَيْهِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَهَا ، وَلَمْ يَأْمُرْنِي بِذَلِكَ ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِهِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَا إِلَّا نِكَاحَ غِبْطَةٍ إِنْ وَافَقَتْكَ أَمْسَكْتَ ، وَإِنْ كَرِهَتْ فَارَقْتَ ، وَإِلَّا فَإِنَّا نَعُدُّ هَذَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِفَاحًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

نافع ، جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا : اس نے کہا: میرے ماموں نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لی ہے ، اب وہ اس معاملے میں غمگین اور پریشان ہیں اور یہ بات اس پر گراں گزر رہی ہے ، میں نے یہ ارادہ کیا ہے ، میں اس خاتون کے ساتھ شادی کر لیتا ہوں ( پھر اسے طلاق دے کر ماموں کے لئے حلالہ کروا دوں گا ) میرے ماموں نے مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا اور انہیں اس بات کا پتہ بھی نہیں ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جی نہیں ! نکاح صرف وہ ہوتا ہے ، جو بقاء کی نیت سے ہو ، اگر وہ تمہیں موافق آ جائے ، تو تم اسے روک کے رکھو ، اور اگر وہ عورت تمہیں ناپسند ہو ، تو تم علیحدگی اختیار کر لینا ، اس کے علاوہ کچھ نہیں ، اس چیز کو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زنا شمار کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح