مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي حُسْنِ السُّؤَالِ وَالتَّوَدُّدِ . باب: اچھی طرح سے سوال کرنا اور ( لوگوں کے ساتھ ) مہربانی سے پیش آنا
حدیث نمبر: 729
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْآيَةِ فَلَا يَقُولُ : مَا تَقُولُ فِي كَذَا وَكَذَا ؟ فَيُلَبَّسُ عَلَيْهِ ، وَلَكِنْ لِيَقْرَأْ مَا قَبْلَهَا ثُمَّ لِيُخَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ . ¤محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جب کسی شخص کو کسی آیت کے بارے میں شک ہو جائے ، تو وہ یہ نہ کہے : تم فلاں آیت کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ کیونکہ یہ چیز اُس کے لئے التباس کا باعث بن جائے گی ، آدمی کو چاہیے کہ اُس سے پہلے کی آیت پڑھے اور پھر اپنے اور اپنے مطلوبہ مقصد کے درمیان کچھ چھوڑ دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ یہ منقطع ہے ۔