کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اچھی طرح سے سوال کرنا اور ( لوگوں کے ساتھ ) مہربانی سے پیش آنا
حدیث نمبر: 727
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ ، وَالتَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ ، وَحُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُخَيِّسُ بْنُ تَمِيمٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” خرچ کرتے ہوئے میانہ روی اختیار کرنا ، نصف معیشت ہے ، لوگوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرنا ، نصف عقل مندی ہے اور عمدہ سوال کرنا نصف علم ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے مخیس بن تمیم نے حفص بن عمر سے روایت کیا ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ دونوں مجہول ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے مخیس بن تمیم نے حفص بن عمر سے روایت کیا ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ دونوں مجہول ہیں ۔
حدیث نمبر: 728
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَكْرَهُ الْمَسَائِلَ وَيَعِيبُهَا . ¤ فَإِذَا سَأَلَهُ أَبُو رَزِينٍ أَجَابَهُ وَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوال کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور اُسے معیوب قرار دیتے تھے ، لیکن جب سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا اور اُس پر پسندیدگی کا اظہار بھی کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 729
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْآيَةِ فَلَا يَقُولُ : مَا تَقُولُ فِي كَذَا وَكَذَا ؟ فَيُلَبَّسُ عَلَيْهِ ، وَلَكِنْ لِيَقْرَأْ مَا قَبْلَهَا ثُمَّ لِيُخَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جب کسی شخص کو کسی آیت کے بارے میں شک ہو جائے ، تو وہ یہ نہ کہے : تم فلاں آیت کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ کیونکہ یہ چیز اُس کے لئے التباس کا باعث بن جائے گی ، آدمی کو چاہیے کہ اُس سے پہلے کی آیت پڑھے اور پھر اپنے اور اپنے مطلوبہ مقصد کے درمیان کچھ چھوڑ دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ یہ منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ یہ منقطع ہے ۔