حدیث نمبر: 7280
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اشْتَرَتْ عَائِشَةُ بِرَيْرَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ لِتُعْتِقَهَا فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا وَلَاءَهَا فَشَرَطَتْ لَهُمْ ذَلِكَ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ فَقَالَ : " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ مَا كَانَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَمَرْدُودٌ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ " . وَكَانَ لِبَرِيرَةَ زَوْجٌ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَمْكُثَ مَعَ زَوْجِهَا كَمَا هِيَ ، وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ . فَفَارَقَتْهُ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتًا فَرَأَى رِجْلَ شَاةٍ فَقَالَ لِعَائِشَةَ : " أَلَا تَطْبُخِي لَنَا هَذَا اللَّحْمَ ؟ " قَالَتْ : تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَأَهْدَتْهُ لَنَا . قَالَ : " اطْبُخُوهُ فَهُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو انصار سے خرید لیا ، تاکہ انہیں آزاد کر دیں ، انصار نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بریرہ کی ولاء کی شرط عائد کی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی یہ شرط مان لی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں ، جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے ، ہر وہ شرط ، جو اللہ کی کتاب میں درست نہ ہو ، وہ اللہ کی کتاب کی طرف لوٹائی جائے گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : بریرہ کے شوہر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں ، تو اپنے شوہر کے ساتھ رہیں جیسے پہلے تھیں ، اور اگر چاہیں تو اس سے علیحدگی اختیار کر لیں ، تو انہوں نے ان صاحب سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر داخل ہوئے ، تو آپ نے ایک بکری کا پایا دیکھا ، آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کیا تم یہ گوشت پکا کے نہیں دو گی ؟ انہوں نے عرض کی : یہ بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا ، اور اس نے ہمیں ہدیہ کے طور پر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پکا لو ! یہ اس کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے ہدیہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی تمیم بن منتصر ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس سے روایت نقل کی ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7280
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11744)»