حدیث نمبر: 7278
عَنْ سَلْمَانَ قَالَ : كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى أَنْ أَغْرِسَ لَهُمْ خَمْسَمِائَةِ فَسِيلَةٍ فَإِذَا عَلِقَتْ فَأَنَا حُرٌّ . قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " اغْرِسْ وَاشْتَرِطْ لَهُمْ فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِطَ فَآذِنِّي " . قَالَ : فَآذَنْتُهُ . قَالَ : فَجَاءَ فَجَعَلَ يَغْرِسُ بِيَدِهِ إِلَّا وَاحِدَةً غَرَسْتُهَا بِيَدِي ، فَعَلِقْنَ إِلَّا الْوَاحِدَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ مُطَوَّلَةٌ فِي مَنَاقِبِهِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے مالک کے ساتھ کتابت کا معاہدہ کیا کہ میں انہیں پانچ سو پودے لگا کے دوں گا ، جب ان پر پھل لٹک جائے گا ، تو میں آزاد ہو جاؤں گا ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم پودے لگاؤ اور ان کے لئے شرط رکھو ، جب تم شرط رکھنے کا ارادہ کرو گے ، تو تم مجھے بتا دینا ، میں نے آپ کو اطلاع دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے تمام پودے لگائے ، صرف ایک پودے کا معاملہ مختلف تھا ، وہ میں نے لگایا ، تو باقی سب پر پھل آ گیا ، ایک پر نہیں آیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جو ” مناقب “ سے متعلق باب میں طویل روایت کے طور پر آئے گی ، اور اس کے علاوہ مقام پر بھی آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7278
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 7279
وَعَنْ بَرِيرَةَ قَالَتْ : كَانَ فِيَّ ثَلَاثَةً مِنَ السُّنَّةِ : تُصُدِّقَ عَلَيَّ بِلَحْمٍ فَأَهْدَيْتُهُ إِلَى عَائِشَةَ فَأَبْقَتْهُ حَتَّى دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا هَذَا اللَّحْمُ ؟ " فَقَالَتْ : لَحْمٌ تُصُدِّقُ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَأَهْدَتْهُ لَنَا . فَقَالَ : " هُوَ عَلَى بَرِيرَةَ صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " . ¤ وَكَاتَبَتْ عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِنْ شَاءُوا عَدَدْتُ لَهُمْ عِدَّةً وَاحِدَةً . قُلْتُ : هُمْ يَقُولُونَ : إِلَّا أَنْ يُشْتَرَطَ لَهُمُ الْوَلَاءُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اشْتَرِطِي وَاشْتَرِطِي ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " . ¤ قَالَتْ : وَأُعْتِقْتُ فَكَانَ لِي الْخِيَارُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے بارے میں تین چیزیں ، سنت سے ثابت ہوئی ہیں ، مجھے گوشت صدقے کے طور پر دیا گیا ، وہ میں نے تحفے کے طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رکھ لیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ نے دریافت کیا : یہ گوشت کہاں سے آیا ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یہ بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا جانے والا گوشت ہے ، وہ اس نے ہمیں تحفے کے طور پر دے دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ بریرہ کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے ہدیہ ہے ۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نواقیہ کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اگر وہ لوگ چاہیں تو میں انہیں ایک ہی مرتبہ ادائیگی کر دیتی ہوں ، میں نے کہا: وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ولاء کا حق ان کے لئے رہے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم شرط رہنے دو تم شرط رہنے دو ! کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب میں آزاد ہو گئی ( تو مجھے شوہر کے ساتھ رہنے ، یا علیحدگی کا ) اختیار دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7279
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (204/24)»
حدیث نمبر: 7280
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اشْتَرَتْ عَائِشَةُ بِرَيْرَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ لِتُعْتِقَهَا فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا وَلَاءَهَا فَشَرَطَتْ لَهُمْ ذَلِكَ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ فَقَالَ : " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ مَا كَانَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَمَرْدُودٌ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ " . وَكَانَ لِبَرِيرَةَ زَوْجٌ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَمْكُثَ مَعَ زَوْجِهَا كَمَا هِيَ ، وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ . فَفَارَقَتْهُ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتًا فَرَأَى رِجْلَ شَاةٍ فَقَالَ لِعَائِشَةَ : " أَلَا تَطْبُخِي لَنَا هَذَا اللَّحْمَ ؟ " قَالَتْ : تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَأَهْدَتْهُ لَنَا . قَالَ : " اطْبُخُوهُ فَهُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو انصار سے خرید لیا ، تاکہ انہیں آزاد کر دیں ، انصار نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بریرہ کی ولاء کی شرط عائد کی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی یہ شرط مان لی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں ، جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے ، ہر وہ شرط ، جو اللہ کی کتاب میں درست نہ ہو ، وہ اللہ کی کتاب کی طرف لوٹائی جائے گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : بریرہ کے شوہر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں ، تو اپنے شوہر کے ساتھ رہیں جیسے پہلے تھیں ، اور اگر چاہیں تو اس سے علیحدگی اختیار کر لیں ، تو انہوں نے ان صاحب سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر داخل ہوئے ، تو آپ نے ایک بکری کا پایا دیکھا ، آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کیا تم یہ گوشت پکا کے نہیں دو گی ؟ انہوں نے عرض کی : یہ بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا ، اور اس نے ہمیں ہدیہ کے طور پر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پکا لو ! یہ اس کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے ہدیہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی تمیم بن منتصر ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس سے روایت نقل کی ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7280
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11744)»
حدیث نمبر: 7281
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ زَوْجُ بِرَيْرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ : مُغِيثٌ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنْتُ أَرَاهُ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَرْبَعٍ : شَرَطَ مَوَالِيهَا عَلَيْهَا الْوَلَاءَ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ ، وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بریرہ کے شوہر ایک سیام فام غلام تھے ، ان کا نام مغیث تھا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے انہیں مدینہ منورہ کی گلیوں میں دیکھا ، ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار چیزوں کا فیصلہ دیا تھا ، آپ نے بریرہ کے مالکان کے لئے ولاء کی شرط برقرار رکھی تھی ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا ، تو انہوں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عدت گزارنے کا اختیار دیا ، بریرہ کو ایک چیز صدقے کے طور پر دی گئی ، انہوں نے اس میں سے کوئی چیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تحفے کے طور پر دے دی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اس کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے ہدیہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7281
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني المعجم الكبير (11826)»
حدیث نمبر: 7282
وَعَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَاتَبَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَلَى عَشَرَةِ آلَافٍ ، فَلَمَّا حَلَّتْ تَرَكَتْ لِي أَلْفًا ، وَكَانَتْ مِمَّنْ صَلَّى إِلَى الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سدی ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدہ زینب بنت قیس بن مخزمہ رضی اللہ عنہا نے دس ہزار کے عوض میں میرے ساتھ کتابت کا معاہدہ کر لیا ، جب میں نے رقم ادا کر لی ، تو انہوں نے ایک ہزار مجھے چھوڑ دیے ، یہ ان خواتین میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں دونوں قبلوں کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عمرو بن محمد بن منقزی اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7282
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (288/24)»